صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب في قوله تعالى: {وإذا راوا تجارة او لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جب وہ تجارت یا کوئی اور شکل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 864 ترقیم شاملہ: -- 2001
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أم الحكم يخطب قاعدا، فقال: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 ".
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں آئے، دیکھا کہ (اموی والی) عبدالرحمان بن ام حکیم بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، انہوں نے فرمایا: اس خبیث کو دیکھو، بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو ادھر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2001]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں آئے جبکہ عبدالرحمان بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس خبیث کو دیکھو، بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] ”اور جب انہوں نے تجارت یا مشغلہ دیکھا، اس کی طرف دوڑ گئے اور تمہیں کھڑے چھوڑ دیا۔“” [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2001]
ترقیم فوادعبدالباقی: 864
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2001 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2001
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کوئی خلاف سنت کام دیکھ کر برداشت نہیں کرتے تھے ایسا کام کرنے والے کو فوراً تنبیہ کرتےتھے۔
اس لیے جب حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعبدالرحمان بن ام الحکم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا تو برملا کہا۔
اس خبیث کو دیکھو،
یعنی اس کو خبیث کے نام سے پکارا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کوئی خلاف سنت کام دیکھ کر برداشت نہیں کرتے تھے ایسا کام کرنے والے کو فوراً تنبیہ کرتےتھے۔
اس لیے جب حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعبدالرحمان بن ام الحکم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا تو برملا کہا۔
اس خبیث کو دیکھو،
یعنی اس کو خبیث کے نام سے پکارا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2001]
Sahih Muslim Hadith 2001 in Urdu
أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← كعب بن عجرة الأنصاري