صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب ذكر النداء بصلاة الكسوف: «الصلاة جامعة»:
باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 914 ترقیم شاملہ: -- 2121
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر سنایا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں، جب تم انہیں (اس طرح) دیکھو تو نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2121]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی شحص کی موت و حیات کے سبب بے نور نہیں ہوتے۔ لیکن وہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں پس جب تم ان کر بے نور دیکھو تو نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 914
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1042
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح البخاري |
3201
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح مسلم |
2121
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1462
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
القاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي