🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب نهي النساء عن اتباع الجنائز:
باب: جنازے کے پیچھے عورتوں کا جانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 938 ترقیم شاملہ: -- 2167
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا ".
حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2167]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا، لیکن ہمیں تاکید نہیں کی گئی، سختی سے نہیں روکا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطيةصحابية
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية
ثقة
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة حافظ
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة مأمون
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2167 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2167
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حکم ونہی کا فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہیں کرسکتا تھا۔
اس لیے عورتوں کو جنازوں سے روکنے کا فرمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی صادر فرمایا۔
لیکن ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ جنازوں کو لے جانا اوردفن کرنا،
طاقت وہمت اور حوصلہ کے کام ہیں۔
عورتیں نرم دل اورصنف نازک ہونے کی وجہ سے یہ کام نہیں کر سکتیں،
نیز مردوں کے ساتھ اگر انہیں جانے کی اجازت ہو،
تو پھر اس میں مردوں اورعورتوں کا اختلاط اور میل جول ہو گا،
جو شریعت کے احکام اور اس کی حدود کے منافی ہے۔
اس لیے عورتوں کو جنازوں کے ساتھ جانے سے روک دیا گیا،
ہاں اگر بعض باہمت اور حوصلہ مند عورتیں،
کسی مجبوری کے سبب،
یا جزع فزع اور اختلاط سے بچ کر کبھی چلی جائیں،
تو اس کی گنجائش ہے۔
لیکن اس سے سب کے جانے کی اجازت کشید نہیں کی جائے گی اور سب کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2167]