صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب نهي النساء عن اتباع الجنائز:
باب: جنازے کے پیچھے عورتوں کا جانا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 938 ترقیم شاملہ: -- 2167
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا ".
حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2167]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا، لیکن ہمیں تاکید نہیں کی گئی، سختی سے نہیں روکا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2167 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2167
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حکم ونہی کا فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہیں کرسکتا تھا۔
اس لیے عورتوں کو جنازوں سے روکنے کا فرمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی صادر فرمایا۔
لیکن ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ جنازوں کو لے جانا اوردفن کرنا،
طاقت وہمت اور حوصلہ کے کام ہیں۔
عورتیں نرم دل اورصنف نازک ہونے کی وجہ سے یہ کام نہیں کر سکتیں،
نیز مردوں کے ساتھ اگر انہیں جانے کی اجازت ہو،
تو پھر اس میں مردوں اورعورتوں کا اختلاط اور میل جول ہو گا،
جو شریعت کے احکام اور اس کی حدود کے منافی ہے۔
اس لیے عورتوں کو جنازوں کے ساتھ جانے سے روک دیا گیا،
ہاں اگر بعض باہمت اور حوصلہ مند عورتیں،
کسی مجبوری کے سبب،
یا جزع فزع اور اختلاط سے بچ کر کبھی چلی جائیں،
تو اس کی گنجائش ہے۔
لیکن اس سے سب کے جانے کی اجازت کشید نہیں کی جائے گی اور سب کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حکم ونہی کا فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہیں کرسکتا تھا۔
اس لیے عورتوں کو جنازوں سے روکنے کا فرمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی صادر فرمایا۔
لیکن ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ جنازوں کو لے جانا اوردفن کرنا،
طاقت وہمت اور حوصلہ کے کام ہیں۔
عورتیں نرم دل اورصنف نازک ہونے کی وجہ سے یہ کام نہیں کر سکتیں،
نیز مردوں کے ساتھ اگر انہیں جانے کی اجازت ہو،
تو پھر اس میں مردوں اورعورتوں کا اختلاط اور میل جول ہو گا،
جو شریعت کے احکام اور اس کی حدود کے منافی ہے۔
اس لیے عورتوں کو جنازوں کے ساتھ جانے سے روک دیا گیا،
ہاں اگر بعض باہمت اور حوصلہ مند عورتیں،
کسی مجبوری کے سبب،
یا جزع فزع اور اختلاط سے بچ کر کبھی چلی جائیں،
تو اس کی گنجائش ہے۔
لیکن اس سے سب کے جانے کی اجازت کشید نہیں کی جائے گی اور سب کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2167]
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية