صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب في غسل الميت:
باب: میت کو غسل دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2172
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ".
اسماعیل بن علیہ نے کہا: ہمیں ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے (بیان کرتے ہوئے) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس کو طاق تعداد میں تین، پانچ یا سات مرتبہ غسل دو۔“ کہا: اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ان (کے بالوں) کی کنگھی کر کے تین مینڈھیاں بنا دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2172]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اسےطاق مرتبہ غسل دو، تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ“ اور ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں ہم نے اس کے بالوں میں کنگھی کرکے ان کے تین مجموعے بنا دئیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2172 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2172
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا غسل طاق مرتبہ دینا بہتر ہے۔
اگرچہ ضرورت کے مطابق وہ تین دفعہ یا پانچ دفعہ سے زائد ہی ہو۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا غسل طاق مرتبہ دینا بہتر ہے۔
اگرچہ ضرورت کے مطابق وہ تین دفعہ یا پانچ دفعہ سے زائد ہی ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2172]
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية