Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کو غسل دینا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2168
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي "، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ "،
یزید بن زریع نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: اس کو تین، پانچ یا اگر تمہاری رائے ہو تو اس سے زائد مرتبہ پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور آخری بار میں کافور یا کافور میں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا۔ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: اس کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2168]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: اس کو تین دفعہ پانچ دفعہ یا اگر تم اس سے زائد بار مناسب سمجھو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری بار میں کافور ڈال دینا یا کافورمیں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جا ؤ تو مجھے اطلا ع کرنا۔ اور جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلا ع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا تہبند دی اور فرمایا:" اس کو اس کے جسم کا شعار بنا دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2168]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2169
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ "،
حفصہ بنت سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے ان (کے بالوں) کی کنگھی کر کے تین گوندھی ہوئی لٹیں بنا دیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2169]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کی تین چوٹیاں کردیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2169]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2170
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ،
مالک بن انس، حماد اور اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک وفات پا گئیں۔ اسماعیل بن علیہ کی حدیث میں (یوں) ہے: (ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے، کہا: جب آپ کی بیٹی وفات پا گئیں تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے۔۔۔ (اس سے آگے) ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے محمد، ان سے ایوب اور ان سے یزید کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2170]
امام صاحب یہی روایت اپنے کئی دوسرے اساتذہ سے بیان کرتےہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی فوت ہوگئی،ام عطیہ کی روایت میں ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے، وہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے تشریف لائے جس وقت آپ کی بیٹی فوت ہوگئی جیسا کہ یزید بن زریع کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2170]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2171
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ "، فَقَالَتْ حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: " وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ".
حماد نے ایوب سے، انہوں نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اس (سابقہ حدیث) کی طرح روایت بیان کی، اس کے سوا کہ آپ نے فرمایا: تین، پانچ، سات یا اگر تمہاری رائے ہو تو اس سے زائد بار (غسل دینا)۔ حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم نے ان کے سر (کے بالوں) کی تین گوندھی ہوئی لٹیں بنا دیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2171]
امام صاحب نےایک دوسری سند سے مذکورہ بالاروایت بیان کی ہے، جس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ یا اگر تم مناسب خیال کروتو اس سے زیادہ دفعہ۔ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے اس کے سر کی تین زلفیں کر دیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2171]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2172
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ".
اسماعیل بن علیہ نے کہا: ہمیں ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے (بیان کرتے ہوئے) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: اس کو طاق تعداد میں تین، پانچ یا سات مرتبہ غسل دو۔ کہا: اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ان (کے بالوں) کی کنگھی کر کے تین مینڈھیاں بنا دیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2172]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اسےطاق مرتبہ غسل دو، تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ اور ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں ہم نے اس کے بالوں میں کنگھی کرکے ان کے تین مجموعے بنا دئیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2173
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا، وَاجْعَلْنَ فِي الْخَامِسَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا غَسَلْتُنَّهَا فَأَعْلِمْنَنِي "، قَالَتْ: فَأَعْلَمْنَاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ "،
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (بڑی) بیٹی زینب رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اسے طاق تعداد میں تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور پانچویں بار (پانی میں) کافور۔۔۔ یا کچھ کافور۔۔۔ ڈال دینا اور جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: اس (تہبند) کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2173]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (بڑی) بیٹی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا وفات پا گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اسے طاق مرتبہ غسل دو، تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور پانچویں بار (پانی میں) کافور یا کچھ کافور ڈال دینا، اور جب تم غسل د ے چکو تو مجھے اطلاع دینا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی تہبند دی اور فرمایا: اس کو اس کے جسم کے ساتھ ملا دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2173]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2174
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَغْسِلُ إِحْدَى بَنَاتِهِ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَتْ: " فَضَفَرْنَا شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَثْلَاثٍ قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا ".
ہشام بن حسان نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹیوں میں سے ایک کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: اسے طاق تعداد میں پانچ یا اس سے زائد بار غسل دینا۔ (آگے) ایوب اور عاصم کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی)، اس حدیث میں انہوں نے کہا: (ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ہم نے ان کے بالوں کو تین تہائیوں میں گوندھ دیا، ان کے سر کے دونوں طرف اور ان کی پیشانی کے بال۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2174]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشر یف لائے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کو غسل دے رہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: اسے طاق مرتبہ غسل دو، پانچ دفعہ یا اس سے زائد جیسا کہ ایوب اور عاصم کی حدیث ہے اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کے بالوں کے تین حصے کر دیئے، دونوں کنپٹیوں کی طرف اور ایک پیشانی کی طرف۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2174]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2175
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْسِلَ ابْنَتَهُ قَالَ لَهَا: " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ".
ہشیم نے خالد سے خبر دی، انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں انہیں اپنی بیٹی کو غسل دینے کا حکم دیا تو (وہاں یہ بھی) فرمایا: ان کی دائیں جانب سے اور اس کے وضو کے اعضاء سے (غسل کی ابتداء کرو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2175]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دینے کا حکم دیا تو فرمایا: دائیں طرف سے اور وضو کی جگہوں سے غسل دینا شروع کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2175]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2176
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ: " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ".
اسماعیل بن علیہ نے خالد سے، انہوں نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے بارے میں ان سے فرمایا: ان کی دائیں جانب سے اور ان کے وضو کے اعضاء سے آغاز کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2176]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا: اس کے دائیں اطراف اور وضوء کی جگہوں سے آغاز کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں