🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب من صلى عليه اربعون شفعوا فيه:
باب: جس میت کی چالیس لوگ نماز جنازہ پڑھیں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 948 ترقیم شاملہ: -- 2199
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، والوليد بن شجاع السكوني ، قال الْوَلِيدُ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ، فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: تَقُولُ هُمْ أَرْبَعُونَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ہارون بن معروف، ہارون بن سعید ایلی اور ولید بن شجاع میں سے ولید نے کہا: مجھے حدیث سنائی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی، ابن وہب نے، انہوں نے کہا: مجھے ابوصخر نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ قدید یا عسفان میں ان کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے کہا: کریب! دیکھو اس کے (جنازے کے) لیے کتنے لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کی خاطر (خاصے) لوگ جمع ہو چکے ہیں تو میں نے ان کو اطلاع دی۔ انہوں نے پوچھا: تو کہتے ہو کہ وہ چالیس ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ تو انہوں نے فرمایا: اس (میت) کو (گھر سے) باہر نکالو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بھی مسلمان فوت ہو جاتا ہے اور اس کے جنازے پر (ایسے) چالیس آدمی (نماز ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہو جاتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ان کی سفارش کو قبول فرما لیتا ہے۔ ابن معروف کی روایت میں ہے: انہوں نے شریک بن ابی نمر سے، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (اس سند میں شریک کے والد اور ابونمر کے بیٹے عبداللہ کا نام لیے بغیر دادا کی طرف منسوب کرتے ہوئے شریک بن ابی نمر کہا گیا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2199]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت کریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال مقام قدید یا مقام عسفان میں ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اے کریب! دیکھو کس قدر لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کی خاطر کافی لوگ جمع ہو چکے ہیں، تو میں نے ان کو اطلاع دی۔ انہوں نے پوچھا: تیرے خیال میں وہ چالیس ہوں گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جنازہ باہر نکالو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس مسلمان آدمی کا انتقال ہو جائے، اس کی نماز ایسے چالیس آدمی پڑھیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتے ہوں (اور وہ نماز میں اس کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کریں) تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 948
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله الليثي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله الليثي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
صدوق يخطئ
👤←👥حميد بن أبي المخارق المدني، أبو صخر، أبو مودود
Newحميد بن أبي المخارق المدني ← شريك بن عبد الله الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← حميد بن أبي المخارق المدني
ثقة حافظ
👤←👥الوليد بن شجاع السكوني، أبو همام
Newالوليد بن شجاع السكوني ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥هارون بن سعيد السعدي، أبو جعفر
Newهارون بن سعيد السعدي ← الوليد بن شجاع السكوني
ثقة فاضل
👤←👥هارون بن معروف المروزي، أبو علي
Newهارون بن معروف المروزي ← هارون بن سعيد السعدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2199
ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه
سنن أبي داود
3170
ما من مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعوا فيه
سنن ابن ماجه
1489
ما من أربعين من مؤمن يشفعون لمؤمن إلا شفعهم الله
بلوغ المرام
450
ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته اربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا لا شفعهم الله فيه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2199 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2199
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمازجنازہ میں صرف کثرت ہی مطلوب اور باعث رحمت وبرکت نہیں ہے بلکہ جنازہ پڑھنے والے اہل توحید مسلمان ہوں۔
جو اخلاص نیت کے ساتھ میت کے حق میں دعا اور سفارش کریں۔
اور قدید اورعسفان کے مکہ معظمہ سے کچھ فاصلہ پر رابغ کے آگے اور پیچھے دو مقام میں راوی کو شک کہ ا ن دو مقامت میں سے کس مقام پر یہ حادثہ پیش آیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2199]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 450
جنازے میں زیادہ افراد کی شرکت کی فضیلت
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کوئی مسلمان نہیں مرتا کہ اس کے جنازے میں ایسے چالیس آدمی شریک ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس مرنے والے کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما لیتا ہے۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 450]
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے جنازے میں زیادہ افراد کی شرکت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
➋ حدیث میں چالیس موحد لوگوں کی شفاعت کا ذکر ہے۔ بعض احادیث میں سو کی تعداد ہے۔ [سنن ابن ماجه، الجنائز، حديث: 1488]
اور بعض میں تین صفوں کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود، الجنائز، حديث: 3166]
لیکن یہ روایت ضعیف ہے، تاہم بعض حضرات نے مالک بن ہبیرہ کے اثر کو حسن قرار دے کر اس مسئلے کا اثبات کیا ہے جیسا کہ امام شوکانی وغیرہ نے بھی اس حدیث سے تین صفوں کی فضیلت کا اثبات کیا ہے۔ دیکھیے: [نيل الاوطار: 62/4]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سائلین کے جواب میں موقع محل کے اعتبار سے آپ نے تعداد کا ذکر فرمایا ہے۔ اور بعض علماء اس کی بابت یوں لکھتے ہیں: ممکن ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے سو افراد کی دعا سے میت کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہو، بعد میں امت محمدیہ پر مزید احسان فرماتے ہوئے چالیس افراد کی دعا کی بشارت دے دی ہو۔ واللہ اعلم
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 450]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3170
جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو مر جائے اور اس کی نماز جنازہ ایسے چالیس لوگ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی طرح کا بھی شرک نہ کرتے ہوں اور ان کی سفارش اس کے حق میں قبول نہ ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3170]
فوائد ومسائل:

جو لوگ اس بات کے متمنی ہوں کہ ان کی دعایئں قبول ہوا کریں۔
اور بالخصوص اموات کے متعلق ان کی دعایئں منظور ہوں توچاہیے کہ شرک سے دور رہیں۔
اور ایمان و تقویٰ کے تقاضے پورے کرنے والے بنیں۔


جنازے میں شرکت کےلئے موحدین (شرک وبدعت سے بیزار بری) حضرات کو بالخصوص اطلاع دی جائے۔
تاکہ مرنے والے کو فی الواقع فائدہ پہنچے۔
مشرک ومبتدع لاکھوں اکھٹے ہوجایئں تو کیا فائدہ؟ اور جنازے میں موحدین کی تعداد جس قدر زیادہ ہو مستحب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3170]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1489
جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر چالیس ۱؎ مومن کسی مومن کے لیے شف۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1489]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل:

(1)
نماز باجماعت جنازہ کی ہو یا کوئی دوسری نماز اس میں جتنے زیادہ افراد شریک ہوں اسی قدرافضل ہوتی ہے اس لئے مسلمانوں کو جنازہ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہونا چاہیے۔
تاکہ ہر نمازی کوزیادہ سےزیادہ ثواب ملے۔

(2)
پہلی حدیث میں سو افراد کے جنازہ پڑھنے پر میت کی مغفرت کا ذکر ہے جبکہ دوسری حدیث میں چالیس افراد کا ذکر ہے۔
ممکن ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے سو افراد کی دعا سے میت کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہو۔
بعد میں امت محمدیہ پر مزید احسان فرماتے ہوئے چالیس افراد کی دعا سے مغفرت کی بشارت دے دی ہو۔

(3)
یہ وعدہ ایسے مسلمان افراد کے جنازہ پڑھنے پر ہے جوشرک کے مرتکب نہ ہوں کیونکہ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں۔
جو مسلمان وفات پا جائے۔
اور اس کے جنازے میں چالیس ایسے آدمی شریک ہوں جو شرک نہ کرتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش قبول فرما لیتا ہے۔ (صحیح المسلم، الجنائز، باب من صلی علیه أربعون شفعوافیه، حدیث: 948)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1489]

Sahih Muslim Hadith 2199 in Urdu