یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب ركوب المصلي على الجنازة إذا انصرف:
باب: نماز جنازہ پڑھ کر واپسی پر سوار ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 965 ترقیم شاملہ: -- 2239
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ، فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِابْنِ الدَّحْدَاحِ "، أَوَ قَالَ شُعْبَةُ: " لِأَبِي الدَّحْدَاحِ ".
شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ننگی پشت والا (بغیر زین کے) ایک گھوڑا لایا گیا، ایک آدمی نے اسے (پکڑ کر) روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر دلکی چال چلنے لگا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تیز قدموں کے ساتھ چل رہے تھے، کہا: لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن دحداح کے لیے جنت میں کتنے لٹکے ہوئے۔۔۔ یا جھکے ہوئے۔۔۔ خوشے ہیں!“ یا شعبہ نے (ابن دحداح رضی اللہ عنہ کے بجائے) ”ابودحداح رضی اللہ عنہ کے لیے“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2239]
جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی الدحداح رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جنازہ پڑھی، پھر ننگی پیٹھ والا گھوڑا لایا گیا، تو ایک آدمی نے اسے پکڑ کر روکے رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کردلکی چال چلنے لگا، (کودتا اچھلتا چل رہا تھا) اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے تھے اور دوڑ رہے تھے، قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ابن ابی الدحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے کتنے خوشے لٹک رہے ہیں یا جھکے ہوئے ہیں؟“ شعبہ نے ابن الدحداح کی بجائے ابوالدحداح کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 965
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2239 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2239
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جنازہ سے واپسی پر بالاتفاق سوار ہونا جائز ہے جاتے وقت بلا عذر ضرورت درست نہیں ہے۔
کیونکہ چارپائی کو کندھا دینا ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل:
جنازہ سے واپسی پر بالاتفاق سوار ہونا جائز ہے جاتے وقت بلا عذر ضرورت درست نہیں ہے۔
کیونکہ چارپائی کو کندھا دینا ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2239]
Sahih Muslim Hadith 2239 in Urdu
سماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري