🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب النهي عن تجصيص القبر والبناء عليه:
باب: قبر کو پختہ کرنے اور اس پر عمارت بنانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 970 ترقیم شاملہ: -- 2247
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نُهِيَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ ".
ایوب نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: قبروں کو چونا لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2247]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قبر کو پختہ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني
ثقة حجة حافظ
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2029
يبنى على القبر يزاد عليه يجصص يكتب عليه
سنن النسائى الصغرى
2030
تقصيص القبور يبنى عليها يجلس عليها أحد
سنن النسائى الصغرى
2031
تجصيص القبور
صحيح مسلم
2247
تقصيص القبور
صحيح مسلم
2245
أن يجصص القبر وأن يقعد عليه وأن يبنى عليه
جامع الترمذي
1052
تجصص القبور يكتب عليها يبنى عليها توطأ
سنن أبي داود
3225
يقعد على القبر يقصص يبنى عليه
سنن ابن ماجه
1562
تقصيص القبور
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2247 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2247
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

علامہ تورپشتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے۔
کہ قبر کو پختہ بنانا یا اس پر خیمہ گاڑنا دونوں منع ہیں،
کیونکہ ان کا فائدہ نہیں ہے اور یہ اہل جاہلیت کا وطیرہ اور عمل ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قبر پر خیمہ لگا دیکھا تو فرمایا،
اےغلام! اس کو اکھاڑ دو،
میت کا عمل ہی اس کے لیے سایہ فراہم کرتا ہے اور بعض احناف نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مال کا ضیاع ہے۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،
میں نے مکہ کے ائمہ کو دیکھا وہ عمارت کو گرانے کا حکم دیتے تھے۔
اس لیے یہ کہنا:
شروع سے لے کر اب تک امت کے صالحین اور علماء بزرگان دین کے مزارات پر گنبد بناتے چلے آئے ہیں،
اس لیے (امت کے اجماع عملی سے گنبد بنانے کا جواز ثابت ہے)
خلاف واقعہ ہے۔
اور دعویٰ اجماع غلط ہے۔
نیز وہ اجماع جو خلاف نص ہو قابل قبول نہیں ہے اور نہ ہی نص کے خلاف اجماع ممکن ہے۔
اسی طرح ابن عابدین نے قبر پر لکھنے کے جواز پر اجماع عملی کا دعویٰ کیا ہے۔
حالانکہ امام ابی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے ائمۃ المسلمین نے جواز کا فتویٰ نہیں دیا اور نہ ہی انہوں نے اپنی قبروں پر لکھنے کی وصیت کی ہے۔
بلکہ ان کی اکثریت نے اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا ہے اور اپنی تصانیف میں بھی یہی لکھا ہے۔
(فتح المہلم 2/ 507)
لہٰذا یہ لوگوں کا غلط عمل ہے اس کو اجماع کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
کیا اب ساری دنیا کے مسلمانوں میں سود کا چال چلن ہے تو یہ جائز ہو جائے گا۔
نیز ان حضرات نے یہ دعویٰ علماء اور صلحاء کی قبروں کے لیے کیا تھا،
اب یہ وبا عام ہو گئی ہے۔
تو کیا اس کو اجماع عملی کا نام دے کر اس کے جواز کا فتویٰ دیا جائے گا۔
حالانکہ اصل حقیقت حال یہ ہے کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں ائمہ المسلمین میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو ان غلط کاموں سے روکتے رہتے ہیں۔
یہی حال ان مزارات پر چادریں یا پھول چڑھانے کا ہے،
اب لوگ قبروں والوں کو پکار کر اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے نذر مانتے یا نیاز چڑھاتے ہیں۔
اور یہ کام بالاجماع باطل ہے۔
(شرح صحیح مسلم سعیدی 2/ 817)
تو کیا اب اس عمل کو جائز قرار دیا جائےگا۔
کیونکہ سب لوگ کر رہے ہیں۔

جس طرح قبر کو پختہ بنانا اور اس پر عمارت تعمیر کرنا ناجائز ہے۔
اسی طرح اس پر مجاور بن کر بیٹھنا درست نہیں ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے قبر پختہ بنانا،
اس پر عمارت بنانا اور بیٹھنا منع ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2247]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2029
قبر اونچی کرنے کے حکم کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں یا اس پر لکھا جائے کا اضافہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2029]
اردو حاشہ:
(1) عمارت یعنی قبر کو عمارت کی طرح اونچا بنانا یا قبر کے ارد گرد عمارت بنانا، خواہ قبر کی حفاظت کے لیے ہو یا زائرین کی سہولت کے لیے، بہرصورت منع ہے کیونکہ اس طرح قبر دیر تک باقی رہے گی۔ بعد میں آنے والوں کو تنگی ہوگی، نیز یہ قبر کی پوجا پاٹ کا سبب ہے۔ آج کل ایسی قبریں مجرموں اور نشیٔ لوگوں کا اڈہ بنی ہوئی ہیں۔
(2) اضافہ قبر سے نکلنے والی مٹی کے علاوہ اور مٹی ڈالنا منع ہے کیونکہ اس طرح قبر شرعی حد سے بلند ہو جائے گی اور اسے ختم ہونے میں دیر لگے گی۔ یا اس سے مراد ضرورت سے زیادہ لمبی چوڑی قبر بنانا ہے، یہ بھی منع ہے کیونکہ اس سے جگہ تنگ ہوگی اور دوسرے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، نیز بے مقصد جگہ ضائع ہوگی۔
(3) تحصیص، یعنی چونے وغیرہ سے پختہ کرنا کیونکہ اس سے مضبوطی اور پائیداری ہوتی ہے جبکہ شریعت کا منشا یہ ہے کہ قبر کچھ دیر کے لیے رہے، پھر ختم ہو جائے تاکہ آنے والوں کے لیے جگہ خالی ہو۔ بعض علماء نے مٹی کے ساتھ قبر لیپنے کی اجازت دی ہے مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مٹی قبر کی مٹی کے علاوہ نہ ہو بلکہ قبر ہی کی مٹی پر پانی ڈال کر ہاتھ پھیر دیا جائے، البتہ اگر کوئی قبر بیٹھ کر گڑھا بن جائے تو اسے الگ مٹی سے پر کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مجبوری ہے۔
(4) لکھا جائے مثلاً: نام و نسب اور پتہ وغیرہ یا تاریخ وفات یا قرآن مجید کی آیات یا احادیث وغیرہ، گویا کچھ بھی لکھنا منع ہے کیونکہ یہ چیز قبر کو عرصۂ دراز تک باقی رکھنے کا سبب بنے گی۔ قرآن مجید وغیرہ لکھنا، اس لیے بھی منع ہے کہ قبر میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے اور یہ الفاظ مقدسہ کی بے حرمتی کا سبب بنے گی، نیز متعلقین کو تو قبر بغیر کتابت کے بھی معلوم ہوتی ہے اور عوام الناس کو اس اعلان کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا لکھنا فضول ہے بلکہ ریا کاری ہے۔
(5) عوام الناس میں کسی چیز کا رائج ہو جانا اس کے جواز کی دلیل نہیں جبکہ وہ صریح فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہو جیسے مندرجہ بالا چیزیں۔ شرک بھی تو ہر دور میں محبوب عوام رہا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2029]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2030
قبر پر عمارت بنانے کے حکم کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے ۱؎ یا اس پر عمارت بنانے ۲؎ یا اس پر کسی کے بیٹھنے ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2030]
اردو حاشہ:
بیٹھنے سے منع فرمایا کیونکہ اس میں صاحب قبر کی بے حرمتی ہے یا بطور سوگ بیٹھنے سے روکا ہے یا مجاور بن کر بیٹھنا مراد ہے۔ بعض نے اس سے قضائے حاجت کے لیے بیٹھنا مراد لیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا تمام صورتیں منع ہیں۔ اسی طرح قبر پر ٹیک لگانا بھی منع ہے کیونکہ اس میں بھی صاحب قبر کی بے حرمتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2030]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2031
قبروں کو پختہ بنانے کے حکم کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2031]
اردو حاشہ:
اس زمانے میں جو کام چونے سے لیا جاتا تھا، آج کل وہ کام سیمنٹ سے لیا جاتا ہے، لہٰذا سیمنٹ کا استعمال بھی قبر پر منع ے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2029)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2031]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3225
قبر پر عمارت بنانا۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے ۱؎، اسے پختہ بنانے، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3225]
فوائد ومسائل:
قبر کے عین اوپر بیٹھنا یا اظہار غم میں اس کا مجاور بن جانا حرام ہے۔
ایسے ہی اسے پختہ کرنا یا اس پر قبہ وغیرہ بنانا حرام ہے۔
کسی ضرورت کے تحت قبر کے پاس بیٹھ جانے میں کوئی حرج نہیں۔
(دیکھئے حدیث 3212)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3225]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1562
قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1562]
اردو حاشہ:
فائده:
چونا گچ کرنا گزشتہ زمانے میں عمارت میں پختگی پیدا کرنے کاطریقہ تھا آج کل اس مقصد کےلئے سیمنٹ استعمال کیا جاتا ہے۔
قبر پر صرف قبر کے گڑھے سے نکلی ہوئی مٹی ڈالنا کافی ہے۔
مزید مٹی ڈالنا یا قبر کو پختہ کرنا منع ہے۔
اس لحاظ سے اس پر کمرہ قبے وغیرہ تعمیر کرنا بالاولیٰ منع ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1562]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1052
قبریں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے کی ممانعت۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قبریں پختہ کی جائیں ۱؎، ان پر لکھا جائے ۲؎ اور ان پر عمارت بنائی جائے ۳؎ اور انہیں روندا جائے ۴؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1052]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس ممانعت کی وجہ ایک تویہ ہے کہ اس میں فضول خرچی ہے کیونکہ اس سے مردے کوکوئی فائدہ نہیں ہوتا دوسرے اس میں مردوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک تک پہنچادیتی ہے۔

2؎:
یہ نہی مطلقاً ہے اس میں میت کا نام اس کی تاریخ وفات اورتبرک کے لیے قرآن کی آیتیں اوراسماء حسنیٰ وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں۔

3؎:
مثلاً قبّہ وغیرہ۔

4؎:
یہ ممانعت میت کی توقیروتکریم کی وجہ سے ہے اس سے میت کی تذلیل وتوہین ہوتی ہے اس لیے اس سے منع کیا گیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1052]