صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب كراهة المسالة للناس:
باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
ترقیم عبدالباقی: 1041 ترقیم شاملہ: -- 2399
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کرلے یا زیادہ کرلے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2399]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں سے ان کا مال اپنا مال بڑھانے کے لیے مانگتا ہے، وہ تو بس آگ کا انگارہ مانگتا ہے، (اب) کم کر لے یا بڑھا لے (اور) زیادہ کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1041
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2399
| من سأل الناس أموالهم تكثرا فإنما يسأل جمرا فليستقل أو ليستكثر |
سنن ابن ماجه |
1838
| من سأل الناس أموالهم تكثرا فإنما يسأل جمر جهنم فليستقل منه أو ليكثر |
بلوغ المرام |
517
| من سال الناس اموالهم تكثرا، فإنما يسال جمرا، فليستقل او ليستكثر |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2399 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2399
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بلا ضرورت اور مجبوری کے محض مال میں اضافہ کی حرص و ہوس کی خاطر سوال کرنا ناجائز ہے جو قیامت کے دن انسان کے لیے ذلت ورسوائی کا باعث ہو گا انسان اپنے چہرے کی رونق و حسن گوشت سے محروم ہو گا اور یہ درہم اس کے لیے آگ کا انگارہ بنیں گے۔
فوائد ومسائل:
بلا ضرورت اور مجبوری کے محض مال میں اضافہ کی حرص و ہوس کی خاطر سوال کرنا ناجائز ہے جو قیامت کے دن انسان کے لیے ذلت ورسوائی کا باعث ہو گا انسان اپنے چہرے کی رونق و حسن گوشت سے محروم ہو گا اور یہ درہم اس کے لیے آگ کا انگارہ بنیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2399]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 517
نفلی صدقے کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی اپنا مال بڑھانے اور زیادہ کرنے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے تو ایسا آدمی اپنے لئے انگاروں کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگتا۔ (اب اس کی مرضی ہے) چاہے انہیں کم کر لے چاہے زیادہ۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 517]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی اپنا مال بڑھانے اور زیادہ کرنے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے تو ایسا آدمی اپنے لئے انگاروں کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگتا۔ (اب اس کی مرضی ہے) چاہے انہیں کم کر لے چاہے زیادہ۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 517]
لغوی تشریح 517:
تَکَثُّرًا مال کو زیادہ کرنے کی غرض سے، اپنی حاجت وضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہیں۔
جَمْرًا آگ کا دہکتا ہو انگارا۔
فَلْیَستَقِلَّ۔۔۔ الخ یعنی چاہے کم لے یا زیادہ حاصل کرے۔ آپ کا یہ فرمانا کہ تھوڑا یا زیادہ حاصل کرے، اس میں تحکم، تہدید اور ڈانٹ ڈپٹ ہے اور اس کام کے خطرناک ہونے کے سلسلے میں زبردست وعید ہے۔
فوائد و مسائل 517:
➊ اس حدیث سے گداگری کا پیشہ ناجائز ثابت ہوتا ہے۔
➊ توانا اور قوی الحبثہ آدمی کا سوال کرنا معاشرے میں بے عزت ہونے کا موجب ہوتا ہے۔
➌ جن لوگوں نے بلاوجہ مانگنے کو اپنا معمول بنالیا ہو انہیں خیرات دینا محل نظر ہے۔
تَکَثُّرًا مال کو زیادہ کرنے کی غرض سے، اپنی حاجت وضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہیں۔
جَمْرًا آگ کا دہکتا ہو انگارا۔
فَلْیَستَقِلَّ۔۔۔ الخ یعنی چاہے کم لے یا زیادہ حاصل کرے۔ آپ کا یہ فرمانا کہ تھوڑا یا زیادہ حاصل کرے، اس میں تحکم، تہدید اور ڈانٹ ڈپٹ ہے اور اس کام کے خطرناک ہونے کے سلسلے میں زبردست وعید ہے۔
فوائد و مسائل 517:
➊ اس حدیث سے گداگری کا پیشہ ناجائز ثابت ہوتا ہے۔
➊ توانا اور قوی الحبثہ آدمی کا سوال کرنا معاشرے میں بے عزت ہونے کا موجب ہوتا ہے۔
➌ جن لوگوں نے بلاوجہ مانگنے کو اپنا معمول بنالیا ہو انہیں خیرات دینا محل نظر ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 517]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1838
مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1838]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1838]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بغیر ضرورت کے سوال کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ انسان اس طرح خود کو جہنم کے نگاروں کا مستخق بنا لیتا ہے۔
(2)
حرام کمائی سے اجتناب فرض ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بغیر ضرورت کے سوال کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ انسان اس طرح خود کو جہنم کے نگاروں کا مستخق بنا لیتا ہے۔
(2)
حرام کمائی سے اجتناب فرض ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1838]
Sahih Muslim Hadith 2399 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي