یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب جواز الاخذ بغير سؤال ولا تطلع
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2406
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ "، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ،
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو (مال) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ سالم نے کہا: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انہیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2406]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطیہ دیا کرتے تھے۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کیا کرتے۔اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس کو دیجیے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کو لے لیجیے اور اپنے مال بنا لیجیے یا اس صدقہ کو دیجیے (اور اپنا اصول بنا لو) جو مال تمھیں اس طرح ملے کہ تم نے دل میں اس کی چاہت اور طمع نہیں کی اور نہ ہی اس کا سوال کیا تو اس کو لے لیجیے اورجو مال اس طرح نہ ملے اس کا دل میں خیال نہ لاؤ سالم بیان کرتے ہیں اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی سے کچھ مانگے نہیں تھے اور جو چیز ملتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 2406 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي