Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب لو ان لابن آدم واديين لابتغى ثالثا:
باب: اگر آدم کے بیٹے کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری چاہے گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1050 ترقیم شاملہ: -- 2419
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ، قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، فَقَالَ " أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ، وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ سورة الصف آية 2 فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ابوحرب بن ابی اسود کے والد سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کی طرف (انہیں بلانے کے لیے قاصد) بھیجا تو ان کے ہاں تین سو آدمی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: تم اہل بصرہ کے بہترین لوگ اور ان کے قاری ہو اس کی تلاوت کرتے رہا کرو تم پر لمبی مدت (کا وقفہ) نہ گزرے کہ تمہارے دل سخت ہو جائیں جس طرح ان کے دل سخت ہو گئے تھے جو تم سے پہلے تھے ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم لمبائی اور (ڈرانے کی) شدت میں (سورہ) براءت سے تشبیہ دیا کرتے تو وہ مجھے بھلا دی گئی اس کے سوا کہ اس کا یہ ٹکڑا مجھے یاد رہ گیا اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کا متلاشی ہوگا اور ابن آدم کا پیٹ تو مٹی کے سوا کوئی شے نہیں بھرتی۔ ہم ایک اور سورت پڑھا کرتے تھے جس کو ہم تسبیح والی سورتوں میں سے ایک سورت سے تشبیہ دیا کرتے تھے وہ بھی مجھے بھلا دی گئی ہاں اس میں سے مجھے یہ یاد ہے اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں وہ بطور شہادت تمہاری گردنوں میں لکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2419]
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کو بلوایا تو ان کے پاس تین سو (300) آدمی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انھوں نے کہا تم اہل بصرہ کے بہترین افراد اور ان کے قاری ہو قرآن پڑھتے رہا کرو کہیں طویل مدت گزرنے سے تمھارے دل سخت نہ ہو جائیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کے دل سخت ہو گئے۔ اور ہم ایک سورۃ پڑھا کرتے تھے جسے ہم طوالت اور (وعیدوں) کی سختی میں سورۃ براۃ سے تشبیہ دیا کرتے۔ تو میں اسے بھول گیا ہاں اس کا یہ ٹکڑا مجھے یاد ہے اگر آدمی کے پاس مال کے دو میدان ہوں تو وہ تیسرا میدان چاہے گا اور آدمی کے پیٹ کو مٹی ہی بھرے گی اور ہم ایک سورۃ پڑھا کرتے تھے جس کو ہم مسبحات کی سورت سے تشیبہ دیا کرتے تھے اس کو بھی میں بھلا چکا ہوں ہاں اس سے مجھے یہ یاد ہے اے ایمان والو! ایسی بات کا دعوی کیوں کرتے ہو جو کرتے نہیں ہو وہ گواہی کے طور پر تمھاری گردنوں میں لکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2419]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1050
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو الأسود الدؤلي، أبو الأسود
Newأبو الأسود الدؤلي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥عطاء بن أبي الأسود الديلي، أبو حرب
Newعطاء بن أبي الأسود الديلي ← أبو الأسود الدؤلي
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عطاء بن أبي الأسود الديلي
ثقة متقن
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← علي بن مسهر القرشي
صدوق يخطئ كثيرا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2419 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2419
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
مال ودولت کی حرص وہوس عام انسانوں کی گویا فطرت ہے اگر دولت سے ان کا گھر بھی بھرا ہو اور جنگل کے جنگل اور میدان کے میدان بھی بھرے پڑے ہوں تب بھی ان کا دل قانع نہیں ہو تا ہے اور وہ اس میں اور زیادتی اور اضافہ ہی چاہتے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک ان کی ہوس کا یہی حال رہتا ہے اور بس قبر میں ہی جا کر دولت کی اس بھوک اور ہوس سے ان کو چھٹکارا ملتا ہے آج کل کے جاگیر دار،
سرمایہ دار و صنعت کار اور سول و فوجی بیورو کریٹس بلکہ ہر تاجر اور دکاندار اور ہر ملازم اس حرص و ہوس کی زندہ مثال بن چکا ہے البتہ جو بندے دنیا اور دنیا کی مال و دولت سے اپنا رخ اللہ کی طرف پھیر لیں اور اس ے اپنا تعلق جوڑ لیں ان پر اللہ کی خصوصی عنایت نازل ہوتی ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ اطمینان قلب غنائے نفس اور قناعت نصیب فرما دیتا ہے۔
(2)
قرآن مجید کی بعض سورتیں آغاز میں آخرت کی فکر اور دنیا سے زہد و بے رغبتی کے سلسلہ میں عارضی طور پر اتریں تھیں لیکن چونکہ ان کا قرآن کی حیثیت سے باقی رہنا منظور نہیں تھا اس لیے وہ رسول اور امت کے ذہن سے اتر گئیں۔
اس لیے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ذہن میں کچھ مفہوم تو محفوظ رہا لیکن ان کے صحیح الفاظ اور قرآنی اسلوب وبلاغت محفوظ نہ رہا اور اب وہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔
اس لیے قرآن ہونے کی شروط بھی ان کے اندر مفقود ہیں اور مسبحات سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کے شروع سبحان کا لفظ یا اس کے مشتقات:
(سَبِّحِ،
يسبح،
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ)
وغیرہ آئے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2419]