علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
43. باب في الكفاف والقناعة:
باب: کفایت شعاری اور قناعت پسندی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1054 ترقیم شاملہ: -- 2426
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ وَهُوَ ابْنُ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ ".
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ انسان کامیاب و بامراد ہو گیا جو مسلمان ہو گیا اور اسے گزر بسر کے بقدر روزی ملی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی توفیق بخشی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2426]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب و با مراد وہ انسان جو مسلمان ہو گیا اور اسے بقدر کفاف روزی ملی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2426]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1054
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2426
| أفلح من أسلم ورزق كفافا وقنعه الله بما آتاه |
جامع الترمذي |
2348
| أفلح من أسلم وكان رزقه كفافا وقنعه الله |
سنن ابن ماجه |
4138
| أفلح من هدي إلى الإسلام ورزق الكفاف وقنع به |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2426 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2426
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ جس بندہ کو ایمان و اسلام کی دولت نصیب فرمائے اور ساتھ ہی اس دنیا میں رہنے سہنے کے لیے بقدر ضرورت سامان فراہم فرمائے تاکہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قناعت اور طمانیت کی دولت بھی نصیب فرما دے۔
تو یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور اس کےلئے کا میابی و کامرانی کی دلیل ہے۔
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ جس بندہ کو ایمان و اسلام کی دولت نصیب فرمائے اور ساتھ ہی اس دنیا میں رہنے سہنے کے لیے بقدر ضرورت سامان فراہم فرمائے تاکہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قناعت اور طمانیت کی دولت بھی نصیب فرما دے۔
تو یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور اس کےلئے کا میابی و کامرانی کی دلیل ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2426]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4138
قناعت کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کو اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اور ضرورت کے مطابق روزی ملی، اور اس نے اس پر قناعت کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4138]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کو اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اور ضرورت کے مطابق روزی ملی، اور اس نے اس پر قناعت کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4138]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام سب سے بڑی دولت ہے کیونکہ اس میں آخرت میں جنت ملتی ہے جس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔
(2)
رزق كفاف کا مطلب اتنی روزی ہے جس سے بنیادی ضروریات بغیر فضول خرچی کے پوری ہوتی رہیں اور قرض اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
(3)
کامیابی دولت کے ڈھیر جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ موجود رزق پر قناعت اور شکر اصل اور بڑی دولت اور بڑی کامیابی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام سب سے بڑی دولت ہے کیونکہ اس میں آخرت میں جنت ملتی ہے جس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔
(2)
رزق كفاف کا مطلب اتنی روزی ہے جس سے بنیادی ضروریات بغیر فضول خرچی کے پوری ہوتی رہیں اور قرض اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
(3)
کامیابی دولت کے ڈھیر جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ موجود رزق پر قناعت اور شکر اصل اور بڑی دولت اور بڑی کامیابی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4138]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2348
بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے (اپنے دئیے ہوئے پر) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2348]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے (اپنے دئیے ہوئے پر) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2348]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آخرت کی کامیابی کا دارومدارصرف اورصرف اسلام ہے،
اگر بدقسمتی سے کسی کا دامن دولت اسلام سے خالی رہا تو دنیا بھر کے خزانے اسے اخروی کامیابی سے ہمکنارنہیں کرسکتے،
اسی طرح بقدرضرورت اوربرابرسرابر والی زندگی میں جو امن وسکون میسر ہے وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی خواہش رکھنے والے انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی،
گویا بقدرکفاف روزی کے ساتھ قناعت واستغنا کا مل جانا امن وسکون کی ضمانت ہے۔
وضاحت:
1؎:
آخرت کی کامیابی کا دارومدارصرف اورصرف اسلام ہے،
اگر بدقسمتی سے کسی کا دامن دولت اسلام سے خالی رہا تو دنیا بھر کے خزانے اسے اخروی کامیابی سے ہمکنارنہیں کرسکتے،
اسی طرح بقدرضرورت اوربرابرسرابر والی زندگی میں جو امن وسکون میسر ہے وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی خواہش رکھنے والے انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی،
گویا بقدرکفاف روزی کے ساتھ قناعت واستغنا کا مل جانا امن وسکون کی ضمانت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2348]
Sahih Muslim Hadith 2426 in Urdu
عبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي