علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب إعطاء من يخاف على إيمانه:
باب: ضعیف الایمان لوگوں کو دینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 150 ترقیم شاملہ: -- 2435
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: " أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ".
محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ بالا حدیث انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: ”جنگ کر رہے ہو؟ اے سعد! میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔۔۔“ (آگے اسی طرح ہے جس طرح پہلی روایت میں ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2435]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے محمد بن سعد کی یہ روایت بیان کرتے ہیں اس میں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور کندھے کے درمیان مارا پھر فرمایا: (اے سعد! کیا لڑائی چاہتے ہو؟ میں ایک ایسے آدمی کو دیتا ہوں۔) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2435]
ترقیم فوادعبدالباقی: 150
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2435 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2435
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
ایمان کا تعلق قلب و دل سے ہے۔
اس لیے اس کے بارے میں انسان یقین اور قطعیت سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
لیکن اسلام کا تعلق ظاہری اعمال سے ہے جس کا انسان مشاہدہ کرتا ہے۔
اس لیے اس کی اطاعت کیشی اور فرمانبرداری کا ظاہری اعمال کے لحاظ سے اظہار نہ کرو۔
لیکن حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس نظریہ کا غلبہ تھا کہ عطیہ میں ان لوگوں کا حق مقدم ہے جو ایمان وایقان میں برتر ہیں اس لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نہیں سمجھ سکے اور اپنے لفظ ہی کا تکرار کرتے رہے۔
(2)
بعض لوگ نئے نئے مسلمان ہوتے ہیں اور اسلام کی حقیقت ان کے دل میں رچی بسی نہیں ہوتی وہ یہی سمجھتے ہیں اسلام لانے سے ہم دنیوی مال و دولت حاصل کر سکیں گے۔
اس لیے ان کی تالیف قلبی کے لیے جب تک ان کی حقیقت اسلام تک رسائی نہ ہو کچھ نہ کچھ دینا مناسب ہوتا ہے۔
اور جن کے دل میں ایمان و عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے وہ دنیوی مال و دولت کوکوئی اہم حیثیت نہیں دیتے کہ اس سے محرومی کی صورت میں ان کے ایمان و یقین میں ضعف پیدا ہو جائے یا وہ نعوذ باللہ دین سے برگشتہ ہو کر آگ کا ایندھن بنیں اس لیے ان کو اپنا سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کے بارے میں بد عقیدگی یا بدظنی کا خطرہ ہوتا۔
فوائد ومسائل:
(1)
ایمان کا تعلق قلب و دل سے ہے۔
اس لیے اس کے بارے میں انسان یقین اور قطعیت سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
لیکن اسلام کا تعلق ظاہری اعمال سے ہے جس کا انسان مشاہدہ کرتا ہے۔
اس لیے اس کی اطاعت کیشی اور فرمانبرداری کا ظاہری اعمال کے لحاظ سے اظہار نہ کرو۔
لیکن حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس نظریہ کا غلبہ تھا کہ عطیہ میں ان لوگوں کا حق مقدم ہے جو ایمان وایقان میں برتر ہیں اس لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نہیں سمجھ سکے اور اپنے لفظ ہی کا تکرار کرتے رہے۔
(2)
بعض لوگ نئے نئے مسلمان ہوتے ہیں اور اسلام کی حقیقت ان کے دل میں رچی بسی نہیں ہوتی وہ یہی سمجھتے ہیں اسلام لانے سے ہم دنیوی مال و دولت حاصل کر سکیں گے۔
اس لیے ان کی تالیف قلبی کے لیے جب تک ان کی حقیقت اسلام تک رسائی نہ ہو کچھ نہ کچھ دینا مناسب ہوتا ہے۔
اور جن کے دل میں ایمان و عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے وہ دنیوی مال و دولت کوکوئی اہم حیثیت نہیں دیتے کہ اس سے محرومی کی صورت میں ان کے ایمان و یقین میں ضعف پیدا ہو جائے یا وہ نعوذ باللہ دین سے برگشتہ ہو کر آگ کا ایندھن بنیں اس لیے ان کو اپنا سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کے بارے میں بد عقیدگی یا بدظنی کا خطرہ ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2435]
Sahih Muslim Hadith 2435 in Urdu
إسماعيل بن محمد الزهري ← محمد بن سعد الزهري