صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
51. باب ترك استعمال آل النبي على الصدقة:
باب: آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کو استعمال نہ کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1072 ترقیم شاملہ: -- 2481
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ، قَالَ: اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، قَالَا لِي: وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَاهُ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، وَأَصَابَا مِمَّا يُصِيبُ النَّاسُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: لَا تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا نَفَاسَةً مِنْكَ عَلَيْنَا، فَوَاللَّهِ لَقَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَفِسْنَاهُ عَلَيْكَ، قَالَ عَلِيٌّ: أَرْسِلُوهُمَا فَانْطَلَقَا وَاضْطَجَعَ عَلِيٌّ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى جَاءَ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا، ثُمَّ قَالَ: " أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ "، ثُمَّ دَخَلَ وَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَتَوَاكَلْنَا الْكَلَامَ، ثُمَّ تَكَلَّمَ أَحَدُنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُ النَّاسِ، وَقَدْ بَلَغْنَا النِّكَاحَ فَجِئْنَا لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى بَعْضِ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَنُؤَدِّيَ إِلَيْكَ كَمَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبَ كَمَا يُصِيبُونَ، قَالَ: فَسَكَتَ طَوِيلًا حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ، قَالَ: وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلْمِعُ عَلَيْنَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ أَنْ لَا تُكَلِّمَاهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ، وَكَانَ عَلَى الْخُمُسِ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ "، قَالَ: فَجَاءَاهُ، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ لِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ "، فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ: " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ لِي "، فَأَنْكَحَنِي، وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: " أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ يُسَمِّهِ لِي،
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب نے انہیں حدیث بیان کی کہ عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث (بن عبدالمطلب) رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے اور دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں لڑکوں کو،، انہوں نے (یہ بات) میرے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہی۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں اور یہ دونوں آپ سے بات کریں اور آپ ان دونوں کو ان صدقات کی وصولی پر مقرر کر دیں جو کچھ (دوسرے) لوگ (لا کر) ادا کرتے ہیں یہ دونوں ادا کریں اور ان دونوں کو بھی وہی کچھ ملے جو (دوسرے) لوگوں کو ملتا ہے (تو کتنا اچھا ہو!) وہ دونوں اسی (مشورے) میں (مشغول) تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے ان دونوں نے اس بات کا ان کے سامنے ذکر کیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام کرنے والے نہیں اس پر ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ ان کے درپے ہو گئے اور کہا اللہ کی قسم! تم محض اس لیے ہمارے ساتھ ایسا کر رہے ہو تا کہ تم ہم پر اپنی برتری جتاؤ اللہ کی قسم! تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہونے کا شرف حاصل ہوا تو (اس موقع پر) ہم نے تو تم پر برتری نہیں جتائی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا تم ان دونوں کو بھیج دو۔ وہ دونوں چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ (وہیں) لیٹ گئے (ابن ربیعہ نے) کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھا لی تو وہ دونوں آپ سے پہلے حجرے کے قریب پہنچ گئے اور کہا: ہم وہاں کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ تشریف لائے تو (اظہار اپنائیت کے طور پر) ہمارے کان پکڑ لیے پھر فرمایا: ”تم دونوں کے دل میں جو کچھ ہے اسے نکالو (اس کا اظہار کرو۔)“ پھر آپ اندر داخل ہوئے ہم بھی ساتھ ہی داخل ہو گئے اس دن آپ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے ہم نے گفتگو ایک دوسرے پر ڈالی (ہر ایک نے چاہا دوسرا بات کرے) پھر ہم میں سے ایک نے گفتگو شروع کی کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سب لوگوں سے بڑھ کر احسان کرنے والے اور سب لوگوں سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ہم دونوں نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمیں بھی ان صدقات میں سے کچھ (صدقات) کی وصولی کے لیے مقرر فرما دیں جس طرح لوگ لا کر ادا کرتے ہیں ہم بھی لا کر دیں گے اور جس طرح انہیں ملتا ہے ہمیں بھی ملے گا آپ خاصی دیر تک خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے (دوبارہ) گفتگو کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کہا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا پردے کے پیچھے سے اشارہ کرنے لگیں کہ تم دونوں ان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بات نہ کرو کہا: پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے فرمایا: ”آل محمد کے لیے صدقہ روا نہیں۔ یہ تو لوگوں (کے مال) کا میل کچل ہے۔“ محمیہ وہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) پر مامور تھے۔۔۔ اور نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کو میرے پاس بلاؤ۔ کہا وہ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اس لڑکے (فضل بن عباس رضی اللہ عنہ) سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دو۔“ تو اس نے ان کا نکاح کر دیا اور آپ نے نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ سے کہا تم اس لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی کر دو۔ (میرے بارے میں۔) تو اس نے میرا نکاح کر دیا اور آپ نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خمس (جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا) میں سے ان دونوں کا اتن اتن حق مہر ادا کر دو۔“ زہری نے کہا اس (عبداللہ بن عبداللہ) نے حق مہر مجھے نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2481]
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعباس بن مطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکٹھے ہوئے اور کہنےلگے، اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں لڑکوں کو (مجھے اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں اور یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں اور آپ ان دونوں کو ان صدقات کی وصولی کے لیے بھیج دیں، اور جو کچھ لا کر دیں، یہ دونوں لا کر دیں۔ اور لوگوں کو جوکچھ ملتا ہے وہی ان یہ دونوں جاصل کر لیں۔ (تو بہتر ہوگا) وہ دونوں یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آ گئے اور ان کے پاس ٹھہر گئے، انہوں نے انہیں بھی یہ بات بتائی، تو حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام نہیں کریں گے۔ تو ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے درپے ہو گئے (ان کو برا بھلا کہا) اور کہا: اللہ کی قسم! تم محض ہم سے حسد کی بنا پریہ باتیں کر رہے ہو۔ اللہ کی قسم! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہو نے کا شرف حاصل ہے۔ تو ہم نے تو اس سے آپ سے حسد نہیں کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم ان دونوں کو بھیج لو۔ دونوں لڑکے چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وہاں) لیٹ گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے کا ن پکڑ لیے، پھر فرمایا: ”تم دونوں کے دل میں جو کچھ جمع ہے ظاہر کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر دا خل ہوئے ہم بھی ساتھ ہی داخل ہو گئے۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تھے۔ ہم نے کلام ایک جوسرے کے سپرد کی (ہر ایک نے دوسرے کو بات کرنے کا لیے کہا) پھر ہم میں سے ایک نے گفتگو شروع کی کہ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سب لوگوں سے بڑھ کر احسان کرنے والے اور سب لوگوں سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ ہم دو نوں نکاح کی عمر (بلوغت) کو پہنچ گئے ہیں اور ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمیں بھی ان صدقات کی وصولی کے لیے مقرر فرمائیں۔ ہم بھی لوگوں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کر دیں گے اور ہمبھی وہ لے لیں گے (جو) ان کو ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیرتک خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے دوبارہ) گفتگو کرنے کا ارادہ کیا۔ تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہمیں پس پردہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کرنے کا اشارہ کرنے لگیں۔ پھر آپ نے فرمایا: ”صدقہ آل محمد کے لیےمناسب نہیں ہے یہ تو بس لوگوں کا میل کچل ہے (لوگوں کے جان و مال کو پاک صاف کرتا ہے) میرے محميہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بلاؤ۔“ (وہ خمس پر مامور تھے۔۔۔ اور نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کو بھی بلاؤ۔ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: ”اس لڑکے (فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے اپنی بچی کا نکاح کر دو۔“ تو اس نے اسے بچی کا نکاح دے دیا۔ اور نوفل بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: ”اس لڑکے سے اپنی بچی بیاہ دو“ یعنی میری خاطر، تو اس نے نکاح کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا: ”ان دونوں کی طرف سے اتنا اتنا حق مہر خمس سے ادا کر دو۔“ زہری بیان کرتے ہیں مجھے استاد نے مہر کی رقم نہیں بتائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2481]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1072
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 2481 in Urdu
عبد الله بن الحارث الهاشمي ← عبد المطلب بن ربيعة الهاشمي