صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
51. باب ترك استعمال آل النبي على الصدقة:
باب: آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کو استعمال نہ کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1072 ترقیم شاملہ: -- 2482
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَقَالَ فِيهِ: فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ، وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ مَكَانِي حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِحَوْرِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ قَالَ لَنَا: " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ "، وَقَالَ أَيْضًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ.
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے اور انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی سے روایت کی کہ حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے انہیں بتایا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔۔۔ اور امام مالک رحمہ اللہ کی (مذکورہ بالا) حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں بات پر ڈٹ جانے والا ابوحسن ہوں اللہ کی قسم! میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصد کے لیے انہیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر تمہارے پاس واپس (نہ آجائیں۔) اور اس حدیث میں کہا: پھر آپ نے ہمیں فرمایا: ”یہ صدقات لوگوں کا میل کچل ہیں اور یقیناً یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں۔“ اور یہ بھی کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پاس محمیہ بن جزء کو بلاؤ۔“ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال خمس کے انتظامات کے لیے مقرر کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو۔ آگے مالک کی مذکورہ حدیث کی طرح بیان کی اور اس میں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چادر بچھائی پھر اس پر لیٹ گئے اور کہا میں ہوں جو نر(سانڈھ) ہے یعنی معاملہ فہم ہوں اور اللہ کی قسم! میں اس جگہ کو نہیں چھوڑدوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصد کے لیے انہیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر واپس لوٹ آئیں، اور اس حدیث میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”یہ صدقات تو لوگوں کا میل کچیل ہیں اور یہ محمد اور آل کے لیے جائز نہیں ہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”میرے پاس محمیہ بن جزء کو بلاؤ“ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کی وصولی کے لیے عامل بنایا تھا (قاضی عیاض کا خیال ہے وہ بنو زبید کا فرد تھا) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1072
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2482 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2482
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
القرام:
سید سردار،
نر اونٹ،
مقصود یہ ہے معاملہ فہم ہوں اور صائب الرائے ہوں۔
(2)
لَا أَرِيمُ مَكَانِي:
اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یا اپنی جگہ سے نہیں ہٹوں گا۔
(3)
الحَوْرِ:
جواب،
چوکہ حور کا اصل معنی رجوع اور واپسی ہے،
اس لیے یہ معنی بھی ہو سکتا ہے۔
وہ ناکام لوٹ آئیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مصارف زکاۃ (زکاۃ)
کی مدات (میں کسی مصرف کے اعتبار سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیےصدقہ لینا جائز نہیں ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مہر کی رقم خمس میں سے اپنے حصہ یا رشتہ داروں کے حصہ سے ادا کرنے کا حکم دیا۔
اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے اس کو شیر مادر سمجھ کر ہضم نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ آج کل یہ وبا عام ہو چکی ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
القرام:
سید سردار،
نر اونٹ،
مقصود یہ ہے معاملہ فہم ہوں اور صائب الرائے ہوں۔
(2)
لَا أَرِيمُ مَكَانِي:
اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یا اپنی جگہ سے نہیں ہٹوں گا۔
(3)
الحَوْرِ:
جواب،
چوکہ حور کا اصل معنی رجوع اور واپسی ہے،
اس لیے یہ معنی بھی ہو سکتا ہے۔
وہ ناکام لوٹ آئیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مصارف زکاۃ (زکاۃ)
کی مدات (میں کسی مصرف کے اعتبار سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیےصدقہ لینا جائز نہیں ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مہر کی رقم خمس میں سے اپنے حصہ یا رشتہ داروں کے حصہ سے ادا کرنے کا حکم دیا۔
اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے اس کو شیر مادر سمجھ کر ہضم نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ آج کل یہ وبا عام ہو چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2482]
عبد الله بن الحارث الهاشمي ← عبد المطلب بن ربيعة الهاشمي