🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب ترك استعمال آل النبي على الصدقة:
باب: آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کو استعمال نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1072 ترقیم شاملہ: -- 2482
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَقَالَ فِيهِ: فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ، وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ مَكَانِي حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِحَوْرِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ قَالَ لَنَا: " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ "، وَقَالَ أَيْضًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ.
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے اور انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی سے روایت کی کہ حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے انہیں بتایا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔۔۔ اور امام مالک رحمہ اللہ کی (مذکورہ بالا) حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں بات پر ڈٹ جانے والا ابوحسن ہوں اللہ کی قسم! میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصد کے لیے انہیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر تمہارے پاس واپس (نہ آجائیں۔) اور اس حدیث میں کہا: پھر آپ نے ہمیں فرمایا: یہ صدقات لوگوں کا میل کچل ہیں اور یقیناً یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں۔ اور یہ بھی کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس محمیہ بن جزء کو بلاؤ۔ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال خمس کے انتظامات کے لیے مقرر کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو۔ آگے مالک کی مذکورہ حدیث کی طرح بیان کی اور اس میں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چادر بچھائی پھر اس پر لیٹ گئے اور کہا میں ہوں جو نر(سانڈھ) ہے یعنی معاملہ فہم ہوں اور اللہ کی قسم! میں اس جگہ کو نہیں چھوڑدوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصد کے لیے انہیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر واپس لوٹ آئیں، اور اس حدیث میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کا میل کچیل ہیں اور یہ محمد اور آل کے لیے جائز نہیں ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: میرے پاس محمیہ بن جزء کو بلاؤ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کی وصولی کے لیے عامل بنایا تھا (قاضی عیاض کا خیال ہے وہ بنو زبید کا فرد تھا) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1072
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد المطلب بن ربيعة الهاشمي، أبو عتيكصحابي
👤←👥عبد الله بن الحارث الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن الحارث الهاشمي ← عبد المطلب بن ربيعة الهاشمي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن الحارث الهاشمي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥هارون بن معروف المروزي، أبو علي
Newهارون بن معروف المروزي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2482 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2482
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
القرام:
سید سردار،
نر اونٹ،
مقصود یہ ہے معاملہ فہم ہوں اور صائب الرائے ہوں۔
(2)
لَا أَرِيمُ مَكَانِي﷤:
اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یا اپنی جگہ سے نہیں ہٹوں گا۔
(3)
الحَوْرِ:
جواب،
چوکہ حور کا اصل معنی رجوع اور واپسی ہے،
اس لیے یہ معنی بھی ہو سکتا ہے۔
وہ ناکام لوٹ آئیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مصارف زکاۃ (زکاۃ)
کی مدات (میں کسی مصرف کے اعتبار سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیےصدقہ لینا جائز نہیں ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مہر کی رقم خمس میں سے اپنے حصہ یا رشتہ داروں کے حصہ سے ادا کرنے کا حکم دیا۔
اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے اس کو شیر مادر سمجھ کر ہضم نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ آج کل یہ وبا عام ہو چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2482]

ڈاکٹر محمد جاوید حفظ اللہ، صحیح مسلم 2482
ہاشمی، عباسی، قریشی، اعوان کو زکوٰۃ دینا
➊ صدقات واجبہ رسالت مآب علیہ الصلاۃ والسلام کے خاندان یعنی بنو ہاشم کے لیے جائز نہیں ہیں اور یہ سیدنا علی، جعفر، عقیل، حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہیں۔
➋ ❀ «إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ.»
بے شک یہ صدقات لوگوں کے مالوں کی میل کچیل ہے، اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں ہے۔ [صحيح مسلم: 1072]
➌ ◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے میں اب جبکہ بنو ہاشم کا خمس میں حصہ نہیں تو انہیں ضروریات کی تکمیل کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
ابن عثیمین رحمہ اللہ اس رائے کے تعاقب میں فرماتے ہیں: ممانعت کی دلیل عام ہے، لہذا کثیر علماء کے نزدیک انہیں زکوٰۃ، صدقہ فطر اور دوسرے صدقات واجبہ کے بجائے نفلی صدقات دے کر مدد کی جائے۔ [مجموع فتاوٰی ورسائل ابن عثیمین: 429/18]
➍ ◈ ابن جبرین رحمہ اللہ کے نزدیک علماء کی ایک رائے کے مطابق اب جبکہ بنو ہاشم کا حصہ خمس میں نہیں ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے درمیان تقریباً تیس نسلیں گزر چکی ہیں تو انہیں صدقات واجبہ دینے کی گنجائش ہے۔ [فتاوٰی الشیخ ابن جبرین: 3/29 شاملہ، صرف زکوٰۃ لآل محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھم بنو ہاشم]
➎ جو لوگ اپنا نسب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں، لازمی نہیں وہ اپنے دعوٰی میں سچے ہوں:
«لَكِنْ لِيُعْلَمَ أَنَّ هَذَا الْبَابَ قَدْ كَثُرَتْ فِيهِ الدَّعَاوِي حَتَّى صَارَ الِانْتِسَابُ إِلَى آلِ الْبَيْتِ وَسِيلَةً لِخِدَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْكَيْدِ لَهُمْ كَمَا حَصَلَ مِنَ الْعُبَيْدِيِّينَ الْمُنْتَسِبِينَ زُورًا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَهُمْ مَجُوسُ الزَّنَادِقَةِ.»
لیکن جاننا چاہیے کہ اس باب میں دعوے بہت بڑھ گئے ہیں یہاں تک کہ اہل بیت کی طرف انتساب مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور ان کے خلاف سازش کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے، جیسا کہ عبیدیوں نے کیا جنہوں نے جھوٹا انتساب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف کیا جبکہ وہ مجوسی زندیق تھے۔ [فتاوٰی شبکۃ الإسلامیۃ: 2685 الشاملۃ، فضل ذریۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وذریتہ]
➏ بہت سے عرب علماء کے نزدیک آج جو لوگ خود کو سید یا ہاشمی کہہ رہے ہیں ان کا ایسا ہونا یقینی نہیں ہے۔
سید مہر علی شاہ رحمہ اللہ نے فتاوٰی مہریہ میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ بیرونی حملہ آوروں کے باعث ہندوستان میں اکثریت کا نسب ثابت نہیں ہے، اس لیے انہیں محض شک کی بنیاد پہ زکوٰۃ سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔
شاہ صاحب دوسری طرف انہی نسب ناموں کی بنیاد پہ سیدہ کے غیر سید سے نکاح کے عدم جواز کا نظریہ رکھتے ہیں، جس سے ہمیں بصد احترام سخت اختلاف ہے۔
خلاصۃ الکلام:
اگر کسی شخص کا ہاشمی ہونا متحقق ہو جائے تو اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے نہ اس کے لیے لینا۔
محض شک کی بنیاد پر اور نسابیین پہ اعتماد کرتے ہوئے انہیں زکوٰۃ سے محروم نہ کرنے کی گنجائش ہے۔
ہاں کوئی احتیاط کی راہ اختیار کرنا چاہے اور محض نسبت کی وجہ سے بھی آل ہاشم کو صدقات واجبہ نہ دینے کی رائے رکھتے ہوئے صدقات نافلہ سے ان کی مدد کرے تو یہ احوط ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
ڈاکٹر محمد جاوید
[احادیث متعارضہ اور ان کا حل، حدیث/صفحہ نمبر: 0]

Sahih Muslim Hadith 2482 in Urdu