علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال والفطر لرؤية الهلال وانه إذا غم في اوله او آخره اكملت عدة الشهر ثلاثين يوما:
باب: اس بیان میں کہ روزہ اور افطار چاند دیکھ کر کریں اور اگر بدلی ہو تو تیس تاریخ پوری کریں۔
ترقیم عبدالباقی: 1081 ترقیم شاملہ: -- 2517
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ".
اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار (عید) کرو۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2517]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا تذکرہ کیا اورفرمایا: ”جب تم اسے دیکھ لو تو روزہ رکھو اورجب تم اسے پھر دیکھ لو تو روزہ افطارکرو پس اگر تم پر گرد و غبار چھا جائے تو تیس دن گنو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2517]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1081
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1909
| صوموا لرؤيته أفطروا لرؤيته إن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين |
صحيح مسلم |
2514
| إذا رأيتم الهلال فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فصوموا ثلاثين يوما |
صحيح مسلم |
2517
| إذا رأيتموه فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن أغمي عليكم فعدوا ثلاثين |
صحيح مسلم |
2516
| صوموا لرؤيته أفطروا لرؤيته إن غمي عليكم الشهر فعدوا ثلاثين |
صحيح مسلم |
2518
| لا تقدموا رمضان بصوم يوم ولا يومين إلا رجل كان يصوم صوما فليصمه |
صحيح مسلم |
2515
| صوموا لرؤيته أفطروا لرؤيته إن غمي عليكم فأكملوا العدد |
جامع الترمذي |
684
| لا تقدموا الشهر بيوم ولا بيومين إلا أن يوافق ذلك صوما كان يصومه أحدكم صوموا لرؤيته و أفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين ثم أفطروا |
جامع الترمذي |
685
| لا تقدموا شهر رمضان بصيام قبله بيوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صوما فليصمه |
سنن أبي داود |
2335
| لا تقدموا صوم رمضان بيوم ولا يومين إلا أن يكون صوم يصومه رجل فليصم ذلك الصوم |
سنن النسائى الصغرى |
2140
| الشهر يكون تسعة وعشرين ويكون ثلاثين إذا رأيتموه فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فأكملوا العدة |
سنن النسائى الصغرى |
2120
| صوموا لرؤيته أفطروا لرؤيته إن غم عليكم فاقدروا ثلاثين |
سنن النسائى الصغرى |
2125
| إذا رأيتموه فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فعدوا ثلاثين |
سنن النسائى الصغرى |
2119
| صوموا لرؤيته أفطروا لرؤيته إن غم عليكم الشهر فعدوا ثلاثين |
سنن النسائى الصغرى |
2192
| لا تقدموا الشهر بيوم أو اثنين إلا رجل كان يصوم صياما فليصمه |
سنن النسائى الصغرى |
2121
| إذا رأيتم الهلال فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فصوموا ثلاثين يوما |
سنن النسائى الصغرى |
2174
| لا تقدموا قبل الشهر بصيام إلا رجل كان يصوم صياما أتى ذلك اليوم على صيامه |
سنن ابن ماجه |
1655
| إذا رأيتم الهلال فصوموا إذا رأيتموه فأفطروا إن غم عليكم فصوموا ثلاثين يوما |
سنن ابن ماجه |
1646
| عن تعجيل صوم يوم قبل الرؤية |
سنن ابن ماجه |
1650
| لا تقدموا صيام رمضان بيوم ولا بيومين إلا رجل كان يصوم صوما فيصومه |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2517 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2517
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اغمي،
غمي،
غم:
سب کا مقصد یہ ہے کہ رؤیت کے درمیان۔
ابر،
یا گردوغبار حائل ہو جائے۔
فوائد ومسائل:
1۔
اسلام میں رمضان کے شروع ہونے اور ختم ہونے کا دارومدار رؤیت ہلال (چاند دیکھنا)
پر رکھا گیا ہے کسی علم وفن اورآلات یا قرینہ وقیاس پر نہیں رکھا تاکہ ہر علاقہ اور ہر دور کے لوگوں کے لیے سہولت اور آسانی رہے۔
یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مقصد ہے کہ ہم امی لوگ ہیں۔
حساب کتاب نہیں جانتے۔
2۔
چاند ہر فرد کے لیے دیکھنا ضروری نہیں ہے کہ جس کو چاند نظر نہ آئے وہ روزہ نہ رکھے یا اس وقت روزہ رکھنا نہ چھوڑے۔
جب تک مہینہ تیس کا نہ ہو جائے۔
اور نہ یہ مقصد ہے کہ چاند دیکھتے ہی روزہ شروع ہو جائے گا اور چاند دیکھتے ہی روزہ چھوڑ دیا جائے گا۔
روزہ کا آغاز سحری سے ہو گا اور افطار کا آغاز سورج کے غروب سے ہو گا۔
3۔
جمہور کے نزدیک اگرچاند نظر نہ آئے بادل ہوں یا مطلع صاف ہو۔
دونوں صورتوں میں مہینہ شعبان تیس کا شمار ہو گا۔
حنابلہ کے نزدیک اگر مطلع صاف ہو تو حکم یہی ہے لیکن اگر مطلع ابرآلود ہو یا گردوغبار ہو،
تو پھر حنابلہ کے تین قول ہیں۔
1۔
رمضان کی حیثیت سے روزہ رکھنا فرض ہے۔
2۔
فرض یا نفل کوئی روزہ جائز نہیں ہے ہاں قضاء،
کفارۃ،
نذر یا اگر یہ عادت کے مطابق ہو۔
تو پھر جائز ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے،
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمضان کی حیثیت سے نہیں رکھا جا سکتا ایسے جائز ہے۔
3۔
امام وقت کی رائے کا لحاظ ہے اگر امام روزہ رکھ لے۔
تو لوگ بھی رکھیں اگر امام روزہ نہ رکھے تو لوگ بھی روزہ نہ رکھیں۔
4۔
روزہ رکھنے کے لیے جمہور کا قول یہ ہے کہ ایک دیندار اورقابل اعتماد آدمی کا دیکھنا کافی ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دو آدمیوں کی روئیت کا اعتبار ہو گا۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول جمہور والا ہے لیکن مشہور اور معروف قول یہ ہے کہ اگر مطلع ابرآلود ہے تو پھر تو ایک آدمی کی گواہی کافی ہے لیکن اگر مطلع صاف وشفاف تو پھر اتنے لوگ گواہی دیں کہ ان کی خبر سے یقین حاصل ہو جائے۔
حالانکہ حدیث میں یہ فرق وامتیاز وارد نہیں ہے۔
5۔
اگر ایک انسان مثلاً سعودی عرب سے ایک یا دو روز پہلے روزے رکھ کر آخری دنوں میں پاکستان آ گیا اب اس کے روزے تیس ہو گئے ہیں لیکن پاکستان میں چاند نظر نہیں آیا تو بعض حضرات کے نزدیک اس کو پاکستانیوں کے ساتھ روزہ رکھنا ہو گا۔
کیونکہ یہاں پر چاند نظر نہیں آیا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون)
جس دن لوگ روزہ رکھیں اس دن روزہ ہے اور جس دن لوگ عید کریں اس دن عید ہے اور ظاہر ہے اس حدیث کا تعلق تو اس فرد سے ہے جو ابتداء اور انتہاء دونوں میں لوگوں کے ساتھ تھا۔
اور مہینہ تیس دن سے زائد نہیں ہوتا اور روزے تو ایک ماہ کے رکھے جاتے ہیں۔
ہاں یہ بات ہے اسے اس دن کھلم کھلا نہیں کھانا چاہیے یا نفلی روزہ رکھ لے۔
اگر وہ یہاں پاکستان سے روزے رکھ کر سعودی عرب گیا ہے اور ابھی اس کے اٹھائیس روزے ہوئے تھے کہ وہاں عید ہو گئی تو وہاں عید کر لے گا اوربعد میں وہاں کے حساب سے روزے پورے کرے گا۔
مفردات الحدیث:
اغمي،
غمي،
غم:
سب کا مقصد یہ ہے کہ رؤیت کے درمیان۔
ابر،
یا گردوغبار حائل ہو جائے۔
فوائد ومسائل:
1۔
اسلام میں رمضان کے شروع ہونے اور ختم ہونے کا دارومدار رؤیت ہلال (چاند دیکھنا)
پر رکھا گیا ہے کسی علم وفن اورآلات یا قرینہ وقیاس پر نہیں رکھا تاکہ ہر علاقہ اور ہر دور کے لوگوں کے لیے سہولت اور آسانی رہے۔
یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مقصد ہے کہ ہم امی لوگ ہیں۔
حساب کتاب نہیں جانتے۔
2۔
چاند ہر فرد کے لیے دیکھنا ضروری نہیں ہے کہ جس کو چاند نظر نہ آئے وہ روزہ نہ رکھے یا اس وقت روزہ رکھنا نہ چھوڑے۔
جب تک مہینہ تیس کا نہ ہو جائے۔
اور نہ یہ مقصد ہے کہ چاند دیکھتے ہی روزہ شروع ہو جائے گا اور چاند دیکھتے ہی روزہ چھوڑ دیا جائے گا۔
روزہ کا آغاز سحری سے ہو گا اور افطار کا آغاز سورج کے غروب سے ہو گا۔
3۔
جمہور کے نزدیک اگرچاند نظر نہ آئے بادل ہوں یا مطلع صاف ہو۔
دونوں صورتوں میں مہینہ شعبان تیس کا شمار ہو گا۔
حنابلہ کے نزدیک اگر مطلع صاف ہو تو حکم یہی ہے لیکن اگر مطلع ابرآلود ہو یا گردوغبار ہو،
تو پھر حنابلہ کے تین قول ہیں۔
1۔
رمضان کی حیثیت سے روزہ رکھنا فرض ہے۔
2۔
فرض یا نفل کوئی روزہ جائز نہیں ہے ہاں قضاء،
کفارۃ،
نذر یا اگر یہ عادت کے مطابق ہو۔
تو پھر جائز ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے،
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمضان کی حیثیت سے نہیں رکھا جا سکتا ایسے جائز ہے۔
3۔
امام وقت کی رائے کا لحاظ ہے اگر امام روزہ رکھ لے۔
تو لوگ بھی رکھیں اگر امام روزہ نہ رکھے تو لوگ بھی روزہ نہ رکھیں۔
4۔
روزہ رکھنے کے لیے جمہور کا قول یہ ہے کہ ایک دیندار اورقابل اعتماد آدمی کا دیکھنا کافی ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دو آدمیوں کی روئیت کا اعتبار ہو گا۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول جمہور والا ہے لیکن مشہور اور معروف قول یہ ہے کہ اگر مطلع ابرآلود ہے تو پھر تو ایک آدمی کی گواہی کافی ہے لیکن اگر مطلع صاف وشفاف تو پھر اتنے لوگ گواہی دیں کہ ان کی خبر سے یقین حاصل ہو جائے۔
حالانکہ حدیث میں یہ فرق وامتیاز وارد نہیں ہے۔
5۔
اگر ایک انسان مثلاً سعودی عرب سے ایک یا دو روز پہلے روزے رکھ کر آخری دنوں میں پاکستان آ گیا اب اس کے روزے تیس ہو گئے ہیں لیکن پاکستان میں چاند نظر نہیں آیا تو بعض حضرات کے نزدیک اس کو پاکستانیوں کے ساتھ روزہ رکھنا ہو گا۔
کیونکہ یہاں پر چاند نظر نہیں آیا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون)
جس دن لوگ روزہ رکھیں اس دن روزہ ہے اور جس دن لوگ عید کریں اس دن عید ہے اور ظاہر ہے اس حدیث کا تعلق تو اس فرد سے ہے جو ابتداء اور انتہاء دونوں میں لوگوں کے ساتھ تھا۔
اور مہینہ تیس دن سے زائد نہیں ہوتا اور روزے تو ایک ماہ کے رکھے جاتے ہیں۔
ہاں یہ بات ہے اسے اس دن کھلم کھلا نہیں کھانا چاہیے یا نفلی روزہ رکھ لے۔
اگر وہ یہاں پاکستان سے روزے رکھ کر سعودی عرب گیا ہے اور ابھی اس کے اٹھائیس روزے ہوئے تھے کہ وہاں عید ہو گئی تو وہاں عید کر لے گا اوربعد میں وہاں کے حساب سے روزے پورے کرے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2517]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2119
بادل ہونے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا بیان اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (دن) پورے کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2119]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (دن) پورے کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2119]
اردو حاشہ:
(1) ان میں اختلاف کی صورت یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کے رواۃ میں شعبہ کے تلامذہ میں اختلاف ہے۔ جب اسماعیل بن علیہ امام شعبہ سے بیان کرتے ہیں تو فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ لیکن جب ان سے ورقاء بن عمر یشکری بیان کرتے ہیں تو فَاقْدُرُوْا ثَلَاثِیْنَ کہتے ہیں لیکن اس سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مزید تفصیل وتحقیق کے لیے دیکھئے (فتح الباري: 4/ 21، رقم الحدیث: 1909)
(2) مہینہ کوئی بھی ہو، حکم یہی ہے۔ بعض روایات میں شعبان کا لفظ صرف اس لیے ہے کہ روزوں کا تعلق شعبان کے اختتام سے ہے، ورنہ خود رمضان بھی اس صورت حال میں (یعنی جب شوال کا چاند نظر نہ آئے) تیس دن ہی کا شمار کیا جائے گا۔
(1) ان میں اختلاف کی صورت یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کے رواۃ میں شعبہ کے تلامذہ میں اختلاف ہے۔ جب اسماعیل بن علیہ امام شعبہ سے بیان کرتے ہیں تو فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ لیکن جب ان سے ورقاء بن عمر یشکری بیان کرتے ہیں تو فَاقْدُرُوْا ثَلَاثِیْنَ کہتے ہیں لیکن اس سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مزید تفصیل وتحقیق کے لیے دیکھئے (فتح الباري: 4/ 21، رقم الحدیث: 1909)
(2) مہینہ کوئی بھی ہو، حکم یہی ہے۔ بعض روایات میں شعبان کا لفظ صرف اس لیے ہے کہ روزوں کا تعلق شعبان کے اختتام سے ہے، ورنہ خود رمضان بھی اس صورت حال میں (یعنی جب شوال کا چاند نظر نہ آئے) تیس دن ہی کا شمار کیا جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2119]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2174
ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا مہینہ (شروع ہونے) سے پہلے تم روزہ نہ رکھو، سوائے اس آدمی کے جو کسی خاص دن روزہ رکھتا ہو، اور (اتفاق سے) وہ دن رمضان کے روزہ سے پہلے آ پڑے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2174]
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا مہینہ (شروع ہونے) سے پہلے تم روزہ نہ رکھو، سوائے اس آدمی کے جو کسی خاص دن روزہ رکھتا ہو، اور (اتفاق سے) وہ دن رمضان کے روزہ سے پہلے آ پڑے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2174]
اردو حاشہ:
یہ ہدایت شعبان کے آخری دنوں کے لیے ہے تاکہ نفل روزے فرض روزوں سے متصل نہ ہو جائیں، امتیاز رہے اور رمضان المبارک کی اہمیت اجاگر ہو، نیز شک والے دن (30 شعبان) کا روزہ نہ رکھا جا سکے۔ ”خاص دن کا روزہ رکھتا رہا ہو“ اس کے ممانعت کے دن میں آجانے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً: کوئی شخص ہر سوموار کو روزہ رکھتا ہو اور سوموار آخر شعبان کو آجائے جو مشکوک ہو کہ 30 شعبان ہے یا یکم رمضان، تو اپنی سابقہ عادت کے مطابق اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔
یہ ہدایت شعبان کے آخری دنوں کے لیے ہے تاکہ نفل روزے فرض روزوں سے متصل نہ ہو جائیں، امتیاز رہے اور رمضان المبارک کی اہمیت اجاگر ہو، نیز شک والے دن (30 شعبان) کا روزہ نہ رکھا جا سکے۔ ”خاص دن کا روزہ رکھتا رہا ہو“ اس کے ممانعت کے دن میں آجانے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً: کوئی شخص ہر سوموار کو روزہ رکھتا ہو اور سوموار آخر شعبان کو آجائے جو مشکوک ہو کہ 30 شعبان ہے یا یکم رمضان، تو اپنی سابقہ عادت کے مطابق اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2174]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2335
شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2335]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2335]
فوائد ومسائل:
(1) شعبان کو رمضان کے ساتھ ملانے کا مفہوم یہ ہے کہ شعبان میں روزے رکھے حتی کہ رمضان شروع ہو جائے۔
(2) شریعت کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور عادت میں فرق کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ اگر کسی نے یہ عادت بنائی ہو کہ وہ سوموار اور جمعرات کو مسنون روزے رکھتا ہو یا اتفاقا کوئی نذر مان لی یا کوئی قضا کا روزہ باقی ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھ لے۔
(1) شعبان کو رمضان کے ساتھ ملانے کا مفہوم یہ ہے کہ شعبان میں روزے رکھے حتی کہ رمضان شروع ہو جائے۔
(2) شریعت کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور عادت میں فرق کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ اگر کسی نے یہ عادت بنائی ہو کہ وہ سوموار اور جمعرات کو مسنون روزے رکھتا ہو یا اتفاقا کوئی نذر مان لی یا کوئی قضا کا روزہ باقی ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھ لے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2335]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1650
رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1650]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1650]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رمضان شروع ہونے سے ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی ایک صورت شک کا روزہ ہے۔
جس کی تفصیل گزشتہ باب میں بیان ہوئی یعنی جس دن مطلع ابر آلود ہونے یا کسی اور وجہ سے چاند نظر آنے کی شرعی گواہی نہ مل سکی ہو۔
اور لوگوں کو اس کی بابت شک ہو کہ تیس شعبان ہے۔
یا یکم رمضان تو اس دن اس نیت سے روزہ رکھنا کہ اگر بعد میں ثابت ہوگیا کہ رمضان شروع ہوچکا تھا تو یہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا ورنہ نفلی روزہ ہوجائے گا۔
یہ صورت جائز نہیں۔
(2)
رمضان سے پہلے روزہ رکھنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ رمضان شروع نہ ہونے کا یقینی علم ہونے کے باوجود روزہ رکھا جائے اس طرح نفل اور فرض کو باہم ملا دیا جائے تو یہ بھی جائز نہیں بلکہ یہ عمل ظاہری طور پر فرضی عبادت میں اضافے سے مشابہ ہے۔
(3)
رمضان سے پہلے روزہ رکھنے کی تیسری صورت یہ ہے مثلاً ایک شخص کا معمول سنت کے مطابق سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا ہے۔
اتفاقاً 29 یا 30 شعبان کو سوموار یا جمعرات کا دن تھا اور اس سے اگلے دن یکم رمضان ہوگیا۔
تو یہ روزہ رمضان سے پہلے اس سے متصل ہے۔
یا کسی کے ذمے قضاء وغیرہ کے روزے تھے۔
وہ 29 یا 30 شعبان کو ختم ہوئے۔
ان صورتوں میں یا ایسی ہی کسی اور صورت میں اس کا ارادہ رمضان کے ساتھ دوسرے روزے ملانے کا نہیں تھا بلکہ اتفاقاً یہ روزے رمضان کے روزوں سے آ ملے۔
تو یہ صورت جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
رمضان شروع ہونے سے ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی ایک صورت شک کا روزہ ہے۔
جس کی تفصیل گزشتہ باب میں بیان ہوئی یعنی جس دن مطلع ابر آلود ہونے یا کسی اور وجہ سے چاند نظر آنے کی شرعی گواہی نہ مل سکی ہو۔
اور لوگوں کو اس کی بابت شک ہو کہ تیس شعبان ہے۔
یا یکم رمضان تو اس دن اس نیت سے روزہ رکھنا کہ اگر بعد میں ثابت ہوگیا کہ رمضان شروع ہوچکا تھا تو یہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا ورنہ نفلی روزہ ہوجائے گا۔
یہ صورت جائز نہیں۔
(2)
رمضان سے پہلے روزہ رکھنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ رمضان شروع نہ ہونے کا یقینی علم ہونے کے باوجود روزہ رکھا جائے اس طرح نفل اور فرض کو باہم ملا دیا جائے تو یہ بھی جائز نہیں بلکہ یہ عمل ظاہری طور پر فرضی عبادت میں اضافے سے مشابہ ہے۔
(3)
رمضان سے پہلے روزہ رکھنے کی تیسری صورت یہ ہے مثلاً ایک شخص کا معمول سنت کے مطابق سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا ہے۔
اتفاقاً 29 یا 30 شعبان کو سوموار یا جمعرات کا دن تھا اور اس سے اگلے دن یکم رمضان ہوگیا۔
تو یہ روزہ رمضان سے پہلے اس سے متصل ہے۔
یا کسی کے ذمے قضاء وغیرہ کے روزے تھے۔
وہ 29 یا 30 شعبان کو ختم ہوئے۔
ان صورتوں میں یا ایسی ہی کسی اور صورت میں اس کا ارادہ رمضان کے ساتھ دوسرے روزے ملانے کا نہیں تھا بلکہ اتفاقاً یہ روزے رمضان کے روزوں سے آ ملے۔
تو یہ صورت جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1650]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 684
رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ماہ (رمضان) سے ایک یا دو دن پہلے (رمضان کے استقبال کی نیت سے) روزے نہ رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ اس دن ایسا روزہ آ پڑے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو ۲؎ اور (رمضان کا) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (شوال کا) چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔ اگر آسمان ابر آلود ہو جائے تو مہینے کے تیس دن شمار کر لو، پھر روزہ رکھنا بند کرو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 684]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ماہ (رمضان) سے ایک یا دو دن پہلے (رمضان کے استقبال کی نیت سے) روزے نہ رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ اس دن ایسا روزہ آ پڑے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو ۲؎ اور (رمضان کا) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (شوال کا) چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔ اگر آسمان ابر آلود ہو جائے تو مہینے کے تیس دن شمار کر لو، پھر روزہ رکھنا بند کرو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 684]
اردو حاشہ:
1؎:
اس ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ فرض روزے نفلی روزوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو جائیں اور کچھ لوگ انھیں فرض نہ سمجھ بیٹھیں،
لہذا تحفظ حدود کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانبین سے روزہ منع کر دیا کیونکہ امم سابقہ میں اس قسم کے تغیر و تبدل ہوا کرتے تھے جس سے زیادتی فی الدین کی راہ کھلتی تھی،
اس لیے اس سے منع کر دیا۔
2؎:
مثلاً پہلے سے جمعرات یا پیر یا ایام بیض کے روزے رکھنے کا معمول ہو اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھا جائے کہ یہ استقبال رمضان میں سے نہیں ہے۔
1؎:
اس ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ فرض روزے نفلی روزوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو جائیں اور کچھ لوگ انھیں فرض نہ سمجھ بیٹھیں،
لہذا تحفظ حدود کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانبین سے روزہ منع کر دیا کیونکہ امم سابقہ میں اس قسم کے تغیر و تبدل ہوا کرتے تھے جس سے زیادتی فی الدین کی راہ کھلتی تھی،
اس لیے اس سے منع کر دیا۔
2؎:
مثلاً پہلے سے جمعرات یا پیر یا ایام بیض کے روزے رکھنے کا معمول ہو اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھا جائے کہ یہ استقبال رمضان میں سے نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 684]
حافظ زبير على زئي رحمه الله، صحیح بخاری 1909
دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر عید کرو، اگر (29 شعبان کو) بادل ہوں تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزے رکھنا شروع کرو۔ (صحیح بخاری: 1909،صحیح مسلم 1081،مفہوماً)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر شہر اور ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھ کر رمضان کے روزے رکھنا شروع کریں گے اور اسی طرح عید کریں گے۔
یاد رہے کہ دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے مثلاً اگر سعودی عرب میں چاند نظر آجائے تو حضرو کے لوگ رمضان کے روزے رکھنا شروع نہیں کریں گے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مُلک شام میں جمعہ کی رات کو چاند نظر آیا جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ میں ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا تھا، پھر انھوں نے اپنے (ثقہ) شاگرد کے کہنے پر فرمایا: ہم تو تیس تک روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ چاند نظر آ جائے۔ پوچھا گیا: کیا آپ (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور اُن کے روزے کا کوئی اعتبار نہیں کرتے؟ انھوں نے فرمایا: کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا تھا۔(صحیح مسلم: 1087)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ملک شام کی رُویت مدینے میں معتبر نہیں ہے۔
درج ذیل محدثین و علماء نے اس حدیث پر ابواب باندھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں گے:
امام ترمذی رحمہ اللہ (باب ماجاء لکل أھل بلد رؤیتھم) سنن الترمذی (693)
امام الائمۃ شیخ الاسلام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (باب الدلیل علٰی أن الواجب علٰی أھل کل بلد صیام رمضان لرؤیتھم، لا رؤیۃ غیرھم) صحیح ابن خزیمہ (3/ 205 ح 1916)
علامہ نووی (باب بیان أن لکل بلد رؤیتھم و أنھم إذا رأوا الھلال ببلد لا یثبت حکمہ لما بعد عنھم) شرح صحیح مسلم (ج7ص 197 تحت ح 1087،طبع احیاء التراث العربی بیروت،لبنان)
محمد بن خلیفہ الوشتابی الابی (حدیث لکل قوم رؤیتھم) شرح صحیح مسلم (ج4 ص 19 ح1087)
ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی (ومن باب: لأھل کل بلد رؤیتھم عند التباعد) المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم (ج3ص 141 ح 955)
ابو جعفر الطحاوی نے فر مایا: اس حدیث میں یہ ہے کہ ابن عباس نے اپنے شہر کے علاوہ دوسرے شہر کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں کیا الخ (شرح مشکل الآثار 1/ 423ح 481)
محدثین کرام اور شارحین حدیث کے اس تفقہ کے مقابلے میں چودھویں صدی اور متأخر ”علماء“ کے منطقی استدلالات مردود ہیں، جو حدیثِ ابن عباس کو موقوف وغیرہ کہہ کر اپنی تاویلات کا نشانہ بناتے ہیں۔
حافظ ابن عبدالبر الاندلسی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خراسان کی رُویت کا اندلس میں اور اندلس کی رُویت کا خراسان میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ (الاستذکار 3/ 283 ح 592)
تنبیہ: یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید کریں۔
جغرافیائی لحاظ سے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ جب مکہ و مدینہ میں دن ہوتا ہے تو امریکہ کے بعض علاقوں میں اُس وقت رات ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر عید کرو، اگر (29 شعبان کو) بادل ہوں تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزے رکھنا شروع کرو۔ (صحیح بخاری: 1909،صحیح مسلم 1081،مفہوماً)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر شہر اور ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھ کر رمضان کے روزے رکھنا شروع کریں گے اور اسی طرح عید کریں گے۔
یاد رہے کہ دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے مثلاً اگر سعودی عرب میں چاند نظر آجائے تو حضرو کے لوگ رمضان کے روزے رکھنا شروع نہیں کریں گے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مُلک شام میں جمعہ کی رات کو چاند نظر آیا جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ میں ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا تھا، پھر انھوں نے اپنے (ثقہ) شاگرد کے کہنے پر فرمایا: ہم تو تیس تک روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ چاند نظر آ جائے۔ پوچھا گیا: کیا آپ (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور اُن کے روزے کا کوئی اعتبار نہیں کرتے؟ انھوں نے فرمایا: کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا تھا۔(صحیح مسلم: 1087)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ملک شام کی رُویت مدینے میں معتبر نہیں ہے۔
درج ذیل محدثین و علماء نے اس حدیث پر ابواب باندھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں گے:
امام ترمذی رحمہ اللہ (باب ماجاء لکل أھل بلد رؤیتھم) سنن الترمذی (693)
امام الائمۃ شیخ الاسلام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (باب الدلیل علٰی أن الواجب علٰی أھل کل بلد صیام رمضان لرؤیتھم، لا رؤیۃ غیرھم) صحیح ابن خزیمہ (3/ 205 ح 1916)
علامہ نووی (باب بیان أن لکل بلد رؤیتھم و أنھم إذا رأوا الھلال ببلد لا یثبت حکمہ لما بعد عنھم) شرح صحیح مسلم (ج7ص 197 تحت ح 1087،طبع احیاء التراث العربی بیروت،لبنان)
محمد بن خلیفہ الوشتابی الابی (حدیث لکل قوم رؤیتھم) شرح صحیح مسلم (ج4 ص 19 ح1087)
ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی (ومن باب: لأھل کل بلد رؤیتھم عند التباعد) المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم (ج3ص 141 ح 955)
ابو جعفر الطحاوی نے فر مایا: اس حدیث میں یہ ہے کہ ابن عباس نے اپنے شہر کے علاوہ دوسرے شہر کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں کیا الخ (شرح مشکل الآثار 1/ 423ح 481)
محدثین کرام اور شارحین حدیث کے اس تفقہ کے مقابلے میں چودھویں صدی اور متأخر ”علماء“ کے منطقی استدلالات مردود ہیں، جو حدیثِ ابن عباس کو موقوف وغیرہ کہہ کر اپنی تاویلات کا نشانہ بناتے ہیں۔
حافظ ابن عبدالبر الاندلسی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خراسان کی رُویت کا اندلس میں اور اندلس کی رُویت کا خراسان میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ (الاستذکار 3/ 283 ح 592)
تنبیہ: یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید کریں۔
جغرافیائی لحاظ سے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ جب مکہ و مدینہ میں دن ہوتا ہے تو امریکہ کے بعض علاقوں میں اُس وقت رات ہوتی ہے۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sahih Muslim Hadith 2517 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي