صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب اي يوم يصام في عاشوراء:
باب: عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 1134 ترقیم شاملہ: -- 2667
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ، لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، ابن ابی ذئب، قاسم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا۔“ اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے عاشورہ کے دن کا روزہ بھی فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2667]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں کا روزہ رکھوں گا۔“ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عاشورہ کا روزہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2667]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2667
| لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع |
سنن ابن ماجه |
1736
| لئن بقيت إلى قابل لأصومن اليوم التاسع |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2667 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2667
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نویں کے روزے کی خواہش فرمائی تھی۔
اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہہ دیا تھا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں کا روزہ رکھتے تھے۔
فوائد ومسائل:
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نویں کے روزے کی خواہش فرمائی تھی۔
اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہہ دیا تھا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں کا روزہ رکھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2667]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1736
یوم عاشوراء کا روزہ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔“ ابوعلی کہتے ہیں: اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1736]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔“ ابوعلی کہتے ہیں: اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1736]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نو محرم کو روزہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنے کا بھی اراده فرمایا تاکہ اہل کتاب سے فرق بھی ہو جائے اور افضل دن کے روزے کا ثواب مل جائے۔
(2)
راوی نے بیان فرمایا کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو تاریخ کا روزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا تو وہ اس لئے تھا کہ دس تا ریخ کا روزہ چھوٹ نہ جا ئے تو یہ حکم بھی ممکن ہے لیکن پہلی وجہ زیادہ قرین قیاس ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نو محرم کو روزہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنے کا بھی اراده فرمایا تاکہ اہل کتاب سے فرق بھی ہو جائے اور افضل دن کے روزے کا ثواب مل جائے۔
(2)
راوی نے بیان فرمایا کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو تاریخ کا روزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا تو وہ اس لئے تھا کہ دس تا ریخ کا روزہ چھوٹ نہ جا ئے تو یہ حکم بھی ممکن ہے لیکن پہلی وجہ زیادہ قرین قیاس ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1736]
Sahih Muslim Hadith 2667 in Urdu
عبد الله بن عمير القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي