🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب كراهية صيام يوم الجمعة منفردا:
باب: خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے (ہاں اگر جمعہ کا دن عادت کے مطابق روزوں میں آ جائے تو پھر مکروہ نہیں ہے)۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1144 ترقیم شاملہ: -- 2684
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ ".
ابو کریب، حسین یعنی جعفی، زائدہ، ہشام، ابن سیرین، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کرو سوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2684]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام اور عبادت کے لیے مخصوص نہ کرو اور تم لوگ دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے مخصوص نہ کرو۔ الا یہ کہ وہ تمھارے روزے کے معمول کے دنوں میں آ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2684]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2684 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2684
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جمعہ کے دن کی فضیلت کی بنا پر اس بات کا امکان تھا کہ لوگ اس دن کو نفلی روزہ رکھنے اور رات کو قیام وتلاوت کے لیے مخوص کر لیں اور آہستہ آہستہ اس کے ساتھ فرض وواجب کا معاملہ کرنے لگیں حالانکہ شریعت نے اس کو فرض وواجب نہیں ٹھہرایا تو اس طرح بدعت کا دروازہ کھل جائے گا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن یا رات میں اپنی طرف سے کسی عبادت کی راہ بند کرنے کے لیے یہ حکم صادر فرمایا جس سے ثابت ہوا شریعت نے جس کو لازم نہیں ٹھہرایا اس کو لازم ٹھہرانا یا اس کے ساتھ لازم جیسا سلوک کرنا درست نہیں ہے۔
اور یہ کسی عبادت کے لیے اپنے طور پر کسی دن کی تخصیص نہیں کرسکتے،
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس طرح امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کے دن بلا قید روزہ رکھنا جائز ہے اور باقی ائمہ کے نزدیک حدیث کے مطابق جمعہ کی تخصیص جائز نہیں ہے الا یہ ہ وہ اس کے معمول کے دنوں میں آ جائے،
مثلاً ایک انسان ہمیشہ یکم،
گیارہ اور اکیس تاریخ کو روزہ رکھتا ہے تو ان میں سے کوئی تاریخ جمعہ کو پڑ جائے تو پھر جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہو گا اور احناف کا جمعہ کے روزہ کے لیے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا روزہ کم ہی چھوڑتے تھے،
سے استدلال درست نہیں،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت کے مطابق ہمیشہ جمعرات کو بھی روزہ رکھتے تھے دوسری روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ میں ہفتہ،
اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے اور اگلے مہینہ منگل،
بدھ اور جمعرات کا،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جمعہ کا روزہ نہیں رکھتے تھے کہ باقی دنوں کو نظر انداز فرما دیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2684]

Sahih Muslim Hadith 2684 in Urdu