🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب صوم عشر ذي الحجة:
باب: عشرہ ذی الحجہ کے روزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1176 ترقیم شاملہ: -- 2790
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَصُمْ الْعَشْرَ ".
سفیان نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی (ذی الحجہ کے) دس دنوں میں روزے نہیں رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2790]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ ذوالحجہ کے روزے نہیں رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2790]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1176
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم النخعي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن نافع القيسي، أبو بكر
Newمحمد بن نافع القيسي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2790 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2790
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عشرہ ذوالحجہ سے،
ذوالحجہ کے ابتدائی نو دن مراد ہیں،
کیونکہ دس تاریخ کو تو عیدالاضحیٰ ہوتی ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سبب سے اس کے روزے ترک کیے ہوں گے وگرنہ اس عشرہ میں نیک عمل کرنے کی بہت فضیلت ہے،
کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ان دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام یا عشرہ ایسا نہیں ہے جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں۔
(بخاری)
اور عمل صالح کا لفظ عام ہے،
اس میں ہر اچھا اور نیک عمل داخل ہے وہ روزہ ہو یا نماز اور ذکر واذکار،
تلاوت قرآن ہو یا صدقہ وخیرات اور پیچھے نو ذوالحجہ کے بارے میں روایت گزر چکی ہے کہ وہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور سنن ابی داؤد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نو ذوالحجہ کو روزہ رکھنے کا تذکرہ موجود ہے۔
سنن نسائی میں حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ:
(أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صِيَامَ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الفجر)
چار امور ایسے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ترک نہیں کرتے تھے۔

عاشورہ(اس یوم)
کا روزہ۔

عشرہ ذوالحجہ کا روزہ۔

ہرماہ تین روزے۔

نماز فجر سے پہلے دورکعتیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2790]

Sahih Muslim Hadith 2790 in Urdu