🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة وفي الطواف الاول في الحج:
باب: حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1265 ترقیم شاملہ: -- 3058
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَبْجَرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصِفْهُ لِي، قَالَ: قُلْتُ: " رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ، وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلَا يُكْرَهُونَ ".
عبدالملک بن سعید بن ابجر نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ (انہوں نے) کہا: ان کی صفت (تمہیں کس طرح نظر آئی) بیان کرو۔ میں نے عرض کی: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر (سوار) دیکھا تھا، اور آپ (کو دیکھنے کے لیے) لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (ہاں) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لوگوں کو آپ سے (دور ہٹانے کے لیے) دھکے دیے جاتے تھے نہ انہیں ڈانٹا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3058]
ابو طفیل بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا: مجھے دیکھنے کی کیفیت بتاؤ، میں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس ایک اونٹنی پر دیکھا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرا ہوا تھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے، لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور نہیں ہٹایا جاتا تھا، یا دھکے نہیں دیے جاتے تھے، نہ دور رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1265
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عامر بن واثلة الليثي، أبو الطفيل
Newعامر بن واثلة الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي
له إدراك
👤←👥عبد الملك بن أبجر الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الملك بن أبجر الهمداني ← عامر بن واثلة الليثي
ثقة
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← عبد الملك بن أبجر الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ فاضل
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3058 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3058
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لَايُدَعُّوْنَ عَنْهُ:
دور ہٹانے کے لیے دھکے دیئے جاتے تھے۔
(2)
لَايُكْھَرُ وْن:
دور رہنے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی جاتی تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3058]

Sahih Muslim Hadith 3058 in Urdu