صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
39. باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة وفي الطواف الاول في الحج:
باب: حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1265 ترقیم شاملہ: -- 3058
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَبْجَرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصِفْهُ لِي، قَالَ: قُلْتُ: " رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ، وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلَا يُكْرَهُونَ ".
عبدالملک بن سعید بن ابجر نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ (انہوں نے) کہا: ان کی صفت (تمہیں کس طرح نظر آئی) بیان کرو۔ میں نے عرض کی: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر (سوار) دیکھا تھا، اور آپ (کو دیکھنے کے لیے) لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (ہاں) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لوگوں کو آپ سے (دور ہٹانے کے لیے) دھکے دیے جاتے تھے نہ انہیں ڈانٹا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3058]
ابو طفیل بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا: مجھے دیکھنے کی کیفیت بتاؤ، میں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس ایک اونٹنی پر دیکھا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرا ہوا تھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے، لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور نہیں ہٹایا جاتا تھا، یا دھکے نہیں دیے جاتے تھے، نہ دور رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1265
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3058 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3058
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لَايُدَعُّوْنَ عَنْهُ:
دور ہٹانے کے لیے دھکے دیئے جاتے تھے۔
(2)
لَايُكْھَرُ وْن:
دور رہنے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی جاتی تھی۔
مفردات الحدیث:
(1)
لَايُدَعُّوْنَ عَنْهُ:
دور ہٹانے کے لیے دھکے دیئے جاتے تھے۔
(2)
لَايُكْھَرُ وْن:
دور رہنے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی جاتی تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3058]
Sahih Muslim Hadith 3058 in Urdu
عامر بن واثلة الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي