صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب غلظ تحريم قتل الإنسان نفسه وإن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار وانه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة:
باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 113 ترقیم شاملہ: -- 307
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ، فَلَمَّا آذَتْهُ، انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَكَأَهَا، فَلَمْ يَرْقإِ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ، قَالَ: " رَبُّكُمْ، قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ.
شیبان نے بیان کیا کہ میں نے حسن (بصری) کو کہتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا، اسے پھوڑا نکلا، جب اس نے اسے اذیت دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اس پھوڑے کو چیر دیا، خون بند نہ ہوا، حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔“ (کیونکہ اس نے خودکشی کے لیے ایسا کیا تھا۔) پھر حسن نے مسجد کی طرف سے اپنا ہاتھ اونچا کیا اور کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ حدیث مجھے جندب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہوئے) اسی مسجد میں سنائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 307]
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ”اگلے لوگوں میں ایک آدمی تھا اسے پھوڑا نکلا، جب اس نے اسے اذیت دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اس پھوڑے کو چیرا دیا جس سے خون نکلنا بند نہ ہوا اور وہ مر گیا۔ تمھارے رب نے فرمایا: ”میں نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔“ پھر حسن نے مسجد کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا: ہاں! اللہ کی قسم! یہ حدیث مجھے جندب رضی اللہ عنہ نے اسی مسجد میں سنائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 307]
ترقیم فوادعبدالباقی: 113
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الجنائز، باب: ما جاء في قاتل النفس برقم (1298) وفي الانبياء، باب: ما ذكر عن بني اسرائيل برقم (3726) انظر ((التحفة)) برقم (3254)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← جندب بن عبد الله البجلي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية شيبان بن عبد الرحمن التميمي ← الحسن البصري | ثقة | |
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد محمد بن عبد الله الزبيرى ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي | ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري | |
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله محمد بن رافع القشيري ← محمد بن عبد الله الزبيرى | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3463
| بادرني عبدي بنفسه حرمت عليه الجنة |
صحيح مسلم |
307
| حرمت عليه الجنة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 307 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 307
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
قُرْحَةٌ:
پھوڑا،
پھنسی۔
(2)
كِنَانَةٌ:
ترکش۔
(3)
نَكَأَهَا:
اسے چھیلا،
چیرا دیا۔
(4)
لَمْ يَرْقَأِ الدَّمُ:
خون نکلنا بند نہ ہوا،
خون نہ رکا۔
(5)
خراج:
پھوڑا۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
قُرْحَةٌ:
پھوڑا،
پھنسی۔
(2)
كِنَانَةٌ:
ترکش۔
(3)
نَكَأَهَا:
اسے چھیلا،
چیرا دیا۔
(4)
لَمْ يَرْقَأِ الدَّمُ:
خون نکلنا بند نہ ہوا،
خون نہ رکا۔
(5)
خراج:
پھوڑا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 307]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3463
3463. حضرت حسن بصری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہمیں حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی جسے ہم بھولے نہیں اور ہمیں اس بات کا بھی اندیشہ نہیں کہ حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہو۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک شخص کو بہت زخم آئے۔ وہ ان کی تاب نہ لاکر گھبرا گیا۔ اس نے چھری پکڑی اور اپنا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بند نہ ہونے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا: میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی، لہذا میں نے جنت کو اس پر حرام کردیا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3463]
حدیث حاشیہ:
پچھلے زمانے کےشخص کا ذکر حدیث میں وارد ہوا، یہی باب سےمناسبت ہے، حدیث سےیہ ظاہر ہواکہ خود کشی کرنے والے پرجنت حرام ہے، ان جملہ احادیث میں اہل کتاب کا ذکر کسی نہ کسی طور بتایا ہے، اسی لیے ان کویہاں درج کیا گیاہے۔
پچھلے زمانے کےشخص کا ذکر حدیث میں وارد ہوا، یہی باب سےمناسبت ہے، حدیث سےیہ ظاہر ہواکہ خود کشی کرنے والے پرجنت حرام ہے، ان جملہ احادیث میں اہل کتاب کا ذکر کسی نہ کسی طور بتایا ہے، اسی لیے ان کویہاں درج کیا گیاہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3463]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3463
3463. حضرت حسن بصری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہمیں حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی جسے ہم بھولے نہیں اور ہمیں اس بات کا بھی اندیشہ نہیں کہ حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہو۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک شخص کو بہت زخم آئے۔ وہ ان کی تاب نہ لاکر گھبرا گیا۔ اس نے چھری پکڑی اور اپنا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بند نہ ہونے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا: میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی، لہذا میں نے جنت کو اس پر حرام کردیا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3463]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں (من قبلكم)
کے الفاظ ہیں جو بنی اسرائیل کو بھی شامل ہیں۔
2۔
اس حدیث میں ہےکہ خود کشی کرنے والے پر جنت حرام ہے، یہ حکم زجر و توبیخ پر مبنی ہے۔
یہ بھی ممکن ہےکہ اس نے خود کشی کو جائز خیال کیا ہو، ایساکرنا کفر ہے اور کافر پر جنت حرام ہے، یا اس پر خاص جنت حرام کردی گئی ہو، یعنی وہ جنت الفردوس میں داخل نہیں ہوگا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس طرح کے سات محل بیان کیے ہیں۔
بہرحال خود کشی کرنا بہت سنگین جرم ہے، اس اقدام سے انسان جنت سے محروم ہوسکتا ہے۔
(فتح الباري: 611/6)
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سابقہ امتوں کے واقعات بیان کرنا درست ہے بشرط یہ کہ ان میں عبرت ونصیحت کا کوئی پہلو ہے، ویسے تفریح طبع کے طور پر واقعات سننا اور بیان کرنا درست نہیں۔
واللہ أعلم۔
4۔
ان تمام احادیث میں کسی نہ کسی حوالے سے اہل کتاب کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒنے ان احادیث کو بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
1۔
اس حدیث میں (من قبلكم)
کے الفاظ ہیں جو بنی اسرائیل کو بھی شامل ہیں۔
2۔
اس حدیث میں ہےکہ خود کشی کرنے والے پر جنت حرام ہے، یہ حکم زجر و توبیخ پر مبنی ہے۔
یہ بھی ممکن ہےکہ اس نے خود کشی کو جائز خیال کیا ہو، ایساکرنا کفر ہے اور کافر پر جنت حرام ہے، یا اس پر خاص جنت حرام کردی گئی ہو، یعنی وہ جنت الفردوس میں داخل نہیں ہوگا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس طرح کے سات محل بیان کیے ہیں۔
بہرحال خود کشی کرنا بہت سنگین جرم ہے، اس اقدام سے انسان جنت سے محروم ہوسکتا ہے۔
(فتح الباري: 611/6)
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سابقہ امتوں کے واقعات بیان کرنا درست ہے بشرط یہ کہ ان میں عبرت ونصیحت کا کوئی پہلو ہے، ویسے تفریح طبع کے طور پر واقعات سننا اور بیان کرنا درست نہیں۔
واللہ أعلم۔
4۔
ان تمام احادیث میں کسی نہ کسی حوالے سے اہل کتاب کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒنے ان احادیث کو بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3463]
الحسن البصري ← جندب بن عبد الله البجلي