صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب استحباب إدامة الحاج التلبية حتى يشرع في رمي جمرة العقبة يوم النحر:
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3092
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ: هَذَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "،
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ سے لوٹتے وقت تلبیہ کہا: تو کہا گیا: کیا یہ اعرابی (بدو) ہیں؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3092]
عبدالرحمٰن بن یزید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہما) نے مزدلفہ سے واپسی کے وقت تلبیہ پڑھا، تو کہا گیا، یہ کوئی جنگلی (بدوی) آدمی ہے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، کیا لوگ بھول گئے ہیں، یا راہ راست سے بھٹک گئے ہیں، جس شخصیت پر سورہ بقرہ اتری ہے، اس جگہ میں نے اس کو یہ کہتے سنا: (لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود