صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3087
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ، أَنَاخَ فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ ". (حديث موقوف) قَالَ قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي، حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: عرفات سے (واپسی کے وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف والی اس گھاٹی پر پہنچے جو مزدلفہ سے ذرا پہلے ہے آپ نے اپنا اونٹ بٹھایا پیشاب سے فارغ ہوئے پھر (واپس) تشریف لائے تو میں نے آپ (کے ہاتھوں) پر وضو کا پانی ڈالا۔ آپ نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز ادا کی پھر (اگلے دن) مزدلفہ کی صبح حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہوئے۔ کریب نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ (عقبہ) پہنچنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1281 ترقیم شاملہ: -- 3088
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كلاهما عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ".
عطاء نے خبر دی (کہا:) مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار کیا۔ (پھر) کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3088]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، تو حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1281
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1282 ترقیم شاملہ: -- 3089
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ، حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ "، وَقَالَ: " لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "،
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ابومعبدنے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انہیں تلقین کی: ”سکون سے (چلو)“ اور آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روکے ہوئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں داخل ہوئے۔۔۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے۔۔۔ آپ نے فرمایا: ”تم (دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر) ماری جانے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کو رمی کی جائے گی۔“ (حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3089]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح، چلتے وقت لوگوں سے فرمایا: ”سکینت اور سکون کو لازم پکڑو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روکے ہوئے تھے، حتیٰ کہ وادی محسر میں داخل ہو گئے، جو منیٰ کا حصہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکنے والی کنکریاں، جمرہ مارنے کے لیے اٹھا لو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3089]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1282
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1282 ترقیم شاملہ: -- 3090
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ.
ابن جریج سے روایت ہے: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے (اپنی) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے (اس طرح) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان (اپنی انگلیوں سے) کنکر پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3090]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ تذکرہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمیِ جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے اور یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے بتا رہے تھے، جیسے چٹکی سے انسان کنکری پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1282
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3091
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَنَحْنُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ".
ابوحوص نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب ہم مزدلفہ میں تھے۔ کہا: میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی، وہ اس مقام پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3091]
حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے، اس مقام پر میں نے اس شخصیت سے جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ کہتے سنا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3091]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3092
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ: هَذَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "،
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ سے لوٹتے وقت تلبیہ کہا: تو کہا گیا: کیا یہ اعرابی (بدو) ہیں؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3092]
عبدالرحمٰن بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے مزدلفہ سے واپسی کے وقت تلبیہ پڑھا، تو کہا گیا: یہ کوئی جنگلی (بدوی) آدمی ہے، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا لوگ بھول گئے ہیں، یا راہ راست سے بھٹک گئے ہیں؟ جس شخصیت پر سورہ بقرہ اتری ہے صلی اللہ علیہ وسلم ، اس جگہ میں نے ان کو یہ کہتے سنا: ” «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں“”۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3093
وَحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سفیان نے ہمیں حصین سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3093]
امام صاحب نے اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3093]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3094
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
زیاد بکائی نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے۔ میں نے اس ہستی سے سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ آپ اسی جگہ «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انہوں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تلبیہ پکارا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3094]
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں، ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مزدلفہ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے یہاں اس شخصیت صلی اللہ علیہ وسلم سے، جس پر سورہ بقرہ اتری ہے، سنا، وہ فرما رہے تھے: ” «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں“”۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة