صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب استحباب إدامة الحاج التلبية حتى يشرع في رمي جمرة العقبة يوم النحر:
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1283 ترقیم شاملہ: -- 3094
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
زیاد بکائی نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے۔ میں نے اس ہستی سے سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ آپ اسی جگہ «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انہوں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تلبیہ پکارا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3094]
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید رحمہ الله عليہما بیان کرتے ہیں، ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مزدلفہ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے یہاں اس شخصیت سے جس پر سورہ بقرہ اتری ہے، سنا، وہ کہہ رہے تھے: (لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْك) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1283
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3094 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3094
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جمرہ عقبہ پر رمی کرنا واجب ہے،
اگروہ رہ جائے تو ایک جانور کی قربانی ضروری ہے،
جمہور کے نزدیک کنکریوں کی تعداد سات ہے،
اور ان کو الگ الگ پھینکا جائے گا،
اور ہر ایک کے ساتھ اللہ اکبر کہا جائے گا۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگرتین یا اس سے زائد کنکریاں رہ جائیں تو ایک جانور کی قربانی ضروری ہے اگر تین سے کم ہوں تو فی کنکری گندم دینی ہو گی،
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
کے نزدیک نصف صاع اور شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پورا صاع۔
فوائد ومسائل:
جمرہ عقبہ پر رمی کرنا واجب ہے،
اگروہ رہ جائے تو ایک جانور کی قربانی ضروری ہے،
جمہور کے نزدیک کنکریوں کی تعداد سات ہے،
اور ان کو الگ الگ پھینکا جائے گا،
اور ہر ایک کے ساتھ اللہ اکبر کہا جائے گا۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگرتین یا اس سے زائد کنکریاں رہ جائیں تو ایک جانور کی قربانی ضروری ہے اگر تین سے کم ہوں تو فی کنکری گندم دینی ہو گی،
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
کے نزدیک نصف صاع اور شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پورا صاع۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3094]
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود