یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
49. باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إلى منى في اواخر الليالي قبل زحمة الناس واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة:
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1295 ترقیم شاملہ: -- 3130
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ، فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے، اور جتنا میسر ہوتا اللہ کا ذکر کرتے، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جاتے۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے منیٰ آ جاتے اور کچھ اس کے بعد آتے۔ پھر جب وہ (سب لوگ منیٰ آ جاتے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کمزور لوگوں) کو رخصت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3130]
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، اپنے ضعیف گھر والوں کو پہلے روانہ کر دیتے تھے، وہ مزدلفہ میں رات کو مشعر حرام کے پاس ٹھہر جاتے، اور جب تک چاہتے اللہ کا ذکر کرتے، پھر وہ امام کے (مشعر حرام میں) وقوف اور روانگی سے پہلے چل پڑتے، ان میں سے بعض منیٰ میں نماز فجر کے وقت پہنچ جاتے، اور بعض اس کے بعد پہنچتے، جب وہ پہنچ جاتے، تو جمرہ کو کنکریاں مارتے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے، ان کو (ضعیفوں کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3130]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3130 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3130
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سورج نکلنے کے بعد کنکریاں مارنا بالاتفاق افضل ہے لیکن کمزور لوگ جو رات کو منیٰ پہنچ جاتے ہیں،
وہ اگرآدھی رات کے بعد کنکریاں ماریں،
تو امام عطاء ابن ابی لیلیٰ،
اورشافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جائز ہے،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اما مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور احناف کے نزدیک طلوع فجر کے بعد پھینکنا جائز ہے،
لیکن امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ۔
ثوری رحمۃ اللہ علیہ۔
اور نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طلوع شمس کے بعد ہی رمی کرنا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سورج نکلنے کے بعد کنکریاں مارنا بالاتفاق افضل ہے لیکن کمزور لوگ جو رات کو منیٰ پہنچ جاتے ہیں،
وہ اگرآدھی رات کے بعد کنکریاں ماریں،
تو امام عطاء ابن ابی لیلیٰ،
اورشافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جائز ہے،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اما مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور احناف کے نزدیک طلوع فجر کے بعد پھینکنا جائز ہے،
لیکن امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ۔
ثوری رحمۃ اللہ علیہ۔
اور نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طلوع شمس کے بعد ہی رمی کرنا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3130]
Sahih Muslim Hadith 3130 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي