صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
68. باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها والدعاء في نواحيها كلها:
باب: حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبہ میں داخل ہونے اور اس کے تمام اطراف میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1329 ترقیم شاملہ: -- 3232
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ، فقَالَ: " ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ "، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ، فقَالَ: وَاللَّهِ لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي، قَالَ: فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
سفیان نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر (سوار ہو کر) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ نے اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور کہا: مجھے (بیت اللہ کی) چابی دو وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے انہیں چابی دینے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا یا تو تم یہ چابی مجھے دو گی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار نکل جائے گی، کہا تو اس نے وہ چابی انہیں دے دی وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چابی انہی کو دے دی تو انہوں (ہی) نے دروازہ کھولا پھر حماد بن زید کی حدیث کے مانند بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3232]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار ہو کر تشریف لائے، اور اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھایا، پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوا کر فرمایا: ”میرے پاس چابی لاؤ۔“ وہ اپنی ماں کے پاس گیا، اس نے اسے کنجی دینے سے انکار کر دیا، عثمان نے کہا: اللہ کی قسم! کنجی مجھے دے دو، وگرنہ یہ تلوار میری پشت سے پار ہو جائے گی، (میں خودکشی کر لوں گا، یا وہ مجھے مار ڈالیں گے) تو اس نے اسے کنجی دے دی، اس نے لا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دی، پھر اس نے دروازہ کھولا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1329
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 3232 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي