صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
68. باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها والدعاء في نواحيها كلها:
باب: حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبہ میں داخل ہونے اور اس کے تمام اطراف میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1332 ترقیم شاملہ: -- 3239
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ؟ قَالَ: لَا.
ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرے کے دوران میں بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3239]
اسماعیل بن خالد بیان کرتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرہ میں، بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے، انہوں نے کہا، نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1332
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاوية | صحابي | |
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله إسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي | ثقة ثبت | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥سريح بن يونس المروروذي، أبو الحارث سريح بن يونس المروروذي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3239 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3239
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عمرۃ القضاۃ 7ھ میں بیت اللہ پر مشرکین مکہ کا تسلط تھا اور کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل نہیں ہوئے،
فتح مکہ کے وقت جب قریش کا غلبہ ختم ہو گیا،
اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا،
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے،
اور دعا و نماز سے لطف اندوز ہوئے۔
فوائد ومسائل:
عمرۃ القضاۃ 7ھ میں بیت اللہ پر مشرکین مکہ کا تسلط تھا اور کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل نہیں ہوئے،
فتح مکہ کے وقت جب قریش کا غلبہ ختم ہو گیا،
اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا،
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے،
اور دعا و نماز سے لطف اندوز ہوئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3239]
إسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي