صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
69. باب نقض الكعبة وبنائها:
باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1333 ترقیم شاملہ: -- 3246
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، يحدثان: عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَفَدَ الْحَارِثُ بن عبد الله، على عبد الملك بن مروان، في خلافته، فقال عبد الملك: ما أظن أبا خبيب يعني ابن الزبير، سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ : بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ "، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟ "، قَالَت: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ "، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ،
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن عبید بن عمیر اور ولید بن عطاء سے سنا وہ دونوں حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے حدیث بیان کر رہے تھے عبداللہ بن عبید نے کہا حارث بن عبداللہ۔ عبدالملک بن مروان کی خلافت کے دوران میں اس کے پاس آئے عبدالملک نے کہا: میرا خیال نہیں کہ ابوخبیب یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو سننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے سنا ہو۔ حارث نے کہا: کیوں نہیں! میں نے خود ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے سنا ہے اس نے کہا: تم نے اس سے سنا وہ کیا کہتی تھیں؟ کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہاری قوم نے (اللہ کے گھر کی عمارت میں کمی کر دی اور اگر ان کا زمانہ شرک قریب کا نہ ہوتا تو جو انہوں نے چھوڑا تھا میں اسے دوبارہ بناتا اور تمہاری قوم کا اگر میرے بعد اسے دوبارہ بنانے کا خیال ہو تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں انہوں نے اس میں سے کیا چھوڑا تھا۔“ پھر آپ نے انہیں سات ہاتھ کے قریب جگہ دکھائی۔ یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں زمین سے لگے ہوئے اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔ اور کیا تو جانتی ہو تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو اونچا کیوں کیا؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا میں نے عرض کی نہیں آپ نے فرمایا: ”خود کو اونچا دکھانے کے لیے تاکہ اس (گھر) میں صرف وہی داخل ہو جسے وہ چاہیں جب کوئی آدمی خود اس میں داخل ہونا چاہتا تو وہ اسے (سیڑھیاں) چڑھنے دیتے حتیٰ کہ جب وہ داخل ہونے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جاتا۔“ عبدالملک نے حارث سے کہا: تم نے خود انہیں یہ کہتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں! کہا: تو اس نے گھڑی بھر اپنی چھڑی سے زمین کو کریدا، پھر کہا: کاش! میں انہیں (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو) اور جس کام کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائی اسے چھوڑ دیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3246]
عبداللہ بن عبید بیان کرتے ہیں، حارث بن عبداللہ، عبدالملک بن مروان کے پاس اس کی خلافت کے زمانہ میں قاصد بن کر آیا، تو عبدالملک نے کہا، میں نہیں سمجھتا کہ ابو خبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وہ بات سنی ہے جس کے سننے کا وہ دعویٰ کرتا ہے، حارث کہنے لگا، کیوں نہیں! میں نے ان (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) سے یہ روایت سنی ہے، عبدالملک نے کہا، تو نے انہیں کیا فرماتے سنا ہے؟ اس نے کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری قوم نے بیت اللہ کی تعمیر میں کمی کر دی اور اگر اس نے شرک کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا، تو انہوں نے جتنا حصہ اس میں سے چھوڑ دیا ہے، اس کو دوبارہ بنا دیتا، اگر تیری قوم کا میرے بعد اس کو دوبارہ بنانے کا ارادہ بن جائے تو آؤ میں تمہیں وہ حصہ دکھا دوں، جو اس میں سے انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو) تقریبا سات ہاتھ جگہ دکھائی، یہ عبداللہ بن عبید کی روایت ہے اور اس میں ولید بن عطاء نے یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کے زمین پر رکھے ہوئے دو دروازے ایک مشرق کی جانب اور ایک مغرب کی جانب بنا دیتا، اور تم جانتی ہو تیری قوم نے بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں رکھا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فخر و تکبر کے لیے کہ اس میں صرف وہی شخص داخل ہو سکے جسے وہ چاہیں، جب کوئی آدمی اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرتا تو وہ اسے چڑھتے رہنے دیتے، حتی کہ جب وہ داخل ہوا چاہتا، اس کو دھکا دے دیتے، تو وہ گر جاتا۔“ عبدالملک نے حارث سے پوچھا، کیا تو نے خود انہیں (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو) یہ کہتے سنا ہے؟ اس نے کہا، ہاں، تو عبدالملک کچھ وقت اپنی چھڑی سے زمین کریدتا رہا (سوچ و بچار کرتا رہا) پھر کہنے لگا، کاش میں، اس نے جو بوجھ اٹھایا تھا، اس کے لیے چھوڑ دیتا (صحیح یا غلط کام کرنے کا ذمہ دار وہی ٹھہرتے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3246]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1333
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7243
| قومك قصرت بهم النفقة قلت فما شأن بابه مرتفعا قال فعل ذاك قومك ليدخلوا من شاءوا ويمنعوا من شاءوا لولا أن قومك حديث عهدهم بالجاهلية فأخاف أن تنكر قلوبهم أن أدخل الجدر في البيت وأن ألصق بابه في الأرض |
صحيح البخاري |
1585
| لولا حداثة قومك بالكفر لنقضت البيت ثم لبنيته على أساس إبراهيم قريشا استقصرت بناءه وجعلت له خلفا |
صحيح البخاري |
1586
| لولا أن قومك حديث عهد بجاهلية لأمرت بالبيت فهدم أدخلت فيه ما أخرج منه وألزقته بالأرض وجعلت له بابين بابا شرقيا وبابا غربيا فبلغت به أساس إبراهيم فذلك الذي حمل ابن الزبير ما على هدمه |
صحيح البخاري |
1584
| قومك قصرت بهم النفقة قلت فما شأن بابه مرتفعا قال فعل ذلك قومك ليدخلوا من شاءوا ويمنعوا من شاءوا لولا أن قومك حديث عهدهم بالجاهلية فأخاف أن تنكر قلوبهم أن أدخل الجدر في البيت وأن ألصق بابه بالأرض |
صحيح البخاري |
126
| لولا قومك حديث عهدهم بكفر لنقضت الكعبة جعلت لها بابين باب يدخل الناس وباب يخرجون |
صحيح مسلم |
3248
| لولا حدثان قومك بالكفر لنقضت البيت حتى أزيد فيه من الحجر إن قومك قصروا في البناء |
صحيح مسلم |
3249
| قومك قصرت بهم النفقة قلت فما شأن بابه مرتفعا قال فعل ذلك قومك ليدخلوا من شاءوا ويمنعوا من شاءوا لولا أن قومك حديث عهدهم في الجاهلية فأخاف أن تنكر قلوبهم لنظرت أن أدخل الجدر في البيت وأن ألزق بابه بالأرض |
صحيح مسلم |
3244
| لولا أن قومك حديثو عهد بشرك لهدمت الكعبة ألزقتها بالأرض وجعلت لها بابين بابا شرقيا وبابا غربيا وزدت فيها ستة أذرع من الحجر فإن قريشا اقتصرتها حيث بنت الكعبة |
صحيح مسلم |
3243
| لولا أن قومك حديثو عهد بجاهلية لأنفقت كنز الكعبة في سبيل الله لجعلت بابها بالأرض ولأدخلت فيها من الحجر |
صحيح مسلم |
3242
| ألم تري أن قومك حين بنوا الكعبة اقتصروا عن قواعد إبراهيم أفلا تردها على قواعد إبراهيم لولا حدثان قومك بالكفر لفعلت |
صحيح مسلم |
3240
| لولا حداثة عهد قومك بالكفر لنقضت الكعبة ولجعلتها على أساس إبراهيم قريشا حين بنت البيت استقصرت ولجعلت لها خلفا |
صحيح مسلم |
3246
| قومك استقصروا من بنيان البيت لولا حداثة عهدهم بالشرك أعدت ما تركوا منه فإن بدا لقومك من بعدي أن يبنوه فهلمي لأريك ما تركوا منه فأراها قريبا من سبعة أذرع هذا |
صحيح مسلم |
3245
| لولا أن الناس حديث عهدهم بكفر وليس عندي من النفقة ما يقوي على بنائه لكنت أدخلت فيه من الحجر خمس أذرع ولجعلت لها بابا يدخل الناس منه وبابا يخرجون منه |
جامع الترمذي |
876
| صلي في الحجر إن أردت دخول البيت فإنما هو قطعة من البيت لكن قومك استقصروه حين بنوا الكعبة فأخرجوه من البيت |
جامع الترمذي |
875
| لولا أن قومك حديثو عهد بالجاهلية لهدمت الكعبة جعلت لها بابين |
سنن أبي داود |
2028
| صلي في الحجر إذا أردت دخول البيت فإنما هو قطعة من البيت لكن قومك اقتصروا حين بنوا الكعبة فأخرجوه من البيت |
سنن النسائى الصغرى |
2904
| لولا حداثة عهد قومك بالكفر لنقضت البيت فبنيته على أساس إبراهيم جعلت له خلفا فإن قريشا لما بنت البيت استقصرت |
سنن النسائى الصغرى |
2913
| لولا أن الناس حديث عهدهم بكفر وليس عندي من النفقة ما يقوي على بنائه لكنت أدخلت فيه من الحجر خمسة أذرع وجعلت له بابا يدخل الناس منه وبابا يخرجون منه |
سنن النسائى الصغرى |
2906
| لولا أن قومك حديث عهد بجاهلية لأمرت بالبيت فهدم أدخلت فيه ما أخرج منه وألزقته بالأرض وجعلت له بابين بابا شرقيا وبابا غربيا فإنهم قد عجزوا عن بنائه فبلغت به أساس إبراهيم |
سنن النسائى الصغرى |
2915
| إذا أردت دخول البيت فصلي ها هنا فإنما هو قطعة من البيت لكن قومك اقتصروا حيث بنوه |
سنن النسائى الصغرى |
2903
| ألم تري أن قومك حين بنوا الكعبة اقتصروا عن قواعد إبراهيم ألا تردها على قواعد إبراهيم لولا حدثان قومك بالكفر |
سنن النسائى الصغرى |
2905
| لولا أن قومي حديث عهد بجاهلية لهدمت الكعبة جعلت لها بابين |
سنن ابن ماجه |
2955
| عجزت بهم النفقة قلت فما شأن بابه مرتفعا لا يصعد إليه إلا بسلم قال ذلك فعل قومك ليدخلوه من شاءوا ويمنعوه من شاءوا لولا أن قومك حديث عهد بكفر مخافة أن تنفر قلوبهم لنظرت هل أغيره فأدخل فيه ما انتقص منه وجعلت بابه بالأرض |
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← الحارث بن عبد الله المخزومي