Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. باب صحة حج الصبي واجر من حج به:
باب: بچے کے حج کے صحیح ہونے کا بیان، اور اس کو حج کرانے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1336 ترقیم شاملہ: -- 3256
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے روایت کی کہا ہمیں عبدالرحمان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3256]
مصنف مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عقبة المطرقي
Newمحمد بن عقبة المطرقي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن عقبة المطرقي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3256 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3256
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بچے کا حج صحیح ہے اور کروانے والے کو ثواب ملتا ہے،
لیکن یہ حج بلوغت کے بعد فرض ہونے والے حج کا بدل نہیں بن سکتا،
بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں حج کرنا فرض ہوگا،
عام طور پر علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ احناف کے نزدیک بچے کا حج صحیح نہیں ہے،
لیکن علامہ کا سانی حنفی نے لکھا ہے بچے کا حج نفلی ہو گا اختلاف صرف اس مسئلہ میں ہے اس پر کسی کوتاہی اور قصور کی صورت میں دم لازم آئے گا یا نہیں،
آئمہ ثلاثہ رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک اگر بچہ سے کوئی قصور ہو جائے تو اس پر دم ہو گا کیونکہ اس کے سر پرست نے کوتاہی کی ہے،
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دم نہیں پڑے گا۔
(بدائع الصنائع ج2 ص120۔
)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3256]