صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
81. باب جواز الإقامة بمكة للمهاجر منها بعد فراغ الحج والعمرة ثلاثة ايام بلا زيادة:
باب: حج اور عمرہ کی فراغت کے بعد مہاجر کا مکہ میں قیام کرنے کا جواز، لیکن یہ قیام تین دن سے زیادہ نہ ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1352 ترقیم شاملہ: -- 3301
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ضحاک بن مخلد نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3301]
امام صاحب ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1352
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد | ثقة | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي | ثقة ثبت | |
👤←👥الحجاج بن الشاعر، أبو محمد الحجاج بن الشاعر ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3301 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3301
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جولوگ فتح مکہ سے پہلے ہجرت کرگئے تھے،
اگر وہ حج یا عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئیں،
توانہیں،
حج وعمرہ کی ادائیگی کے بعد صرف تین دن مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی گئی تھی،
جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگرانسان سفر پر جائے اور وہ کہیں تین دن سے یا ان سے کم رہنے کا اردہ کرے گا تو وہ مسافر کے حکم میں ہو گا،
اور اگر وہ تین دن سے زائد قیام کرنے کی نیت کرے،
تو وہ مقیم تصور ہو گا،
مسافر نہیں ہوگا،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجر کے لیے تین دن ٹھہرنے کو اقامت قرار نہیں دیا۔
فوائد ومسائل:
جولوگ فتح مکہ سے پہلے ہجرت کرگئے تھے،
اگر وہ حج یا عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئیں،
توانہیں،
حج وعمرہ کی ادائیگی کے بعد صرف تین دن مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی گئی تھی،
جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگرانسان سفر پر جائے اور وہ کہیں تین دن سے یا ان سے کم رہنے کا اردہ کرے گا تو وہ مسافر کے حکم میں ہو گا،
اور اگر وہ تین دن سے زائد قیام کرنے کی نیت کرے،
تو وہ مقیم تصور ہو گا،
مسافر نہیں ہوگا،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجر کے لیے تین دن ٹھہرنے کو اقامت قرار نہیں دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3301]
الضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي