🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب جواز دخول مكة بغير إحرام:
باب: بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1359 ترقیم شاملہ: -- 3311
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ".
وکیع نے ہمیں مساور وراق سے خبر دی، انہوں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے والد (عمرو بن حریث بن عمرو مخزومی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3311]
جعفر بن عمرو بن حریث اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس حال میں خطاب فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3311]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن حريث القرشي، أبو سعيدصحابي صغير
👤←👥جعفر بن عمرو المخزومي
Newجعفر بن عمرو المخزومي ← عمرو بن حريث القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مساور الوراق
Newمساور الوراق ← جعفر بن عمرو المخزومي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← مساور الوراق
ثقة حافظ إمام
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3311
خطب الناس وعليه عمامة سوداء
صحيح مسلم
3312
عليه عمامة سوداء قد أرخى طرفيها بين كتفيه
سنن أبي داود
4077
على المنبر وعليه عمامة سوداء قد أرخى طرفها بين كتفيه
سنن ابن ماجه
3587
عليه عمامة سوداء قد أرخى طرفيها بين كتفيه
سنن ابن ماجه
1104
يخطب على المنبر وعليه عمامة سوداء
سنن ابن ماجه
3584
يخطب على المنبر وعليه عمامة سوداء
سنن ابن ماجه
2821
عليه عمامة سوداء قد أرخى طرفيها بين كتفيه
سنن النسائى الصغرى
5345
رأيت على النبي عمامة حرقانية
مسندالحميدي
576
رأيت على رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم عمامة سوداء يوم فتح مكة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3311 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، صحیح مسلم 3311
کالا یا سفید عمامہ باندھنا
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور آپ نے کالا عمامہ باندھا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم: 1359، دارالسلام: 3311]
تنبیہ: سفید عمامہ بھی جائز ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سر پر سفید عمامہ باندھا تھا۔ دیکھئے: [المستدرك ج4 ص 540 ح 8623، اتحاف المهرة 8/590ح 10015، وهو حديث حسن لذاته اور ص598]
نمبر 33:
ٹوپی پہننا بھی جائز ہے۔
دیکھئے: التاریخ الکبیر للبخاری [1/ 428] «عن ابي موسيٰ الاشعري رضى الله عنه موقوفاً عليه وسنده صحيح»
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17
اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 157]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5345
سرمئی رنگ کی پگڑی باندھنے کا بیان۔
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کی پگڑی باندھے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5345]
اردو حاشہ:
سیاہی مائل عربی میں لفظ حرقانية استعمال فرمایا گیا ہے جو حرق سے ہے۔ اس کے معنیٰ آگ میں جلنا ہے۔ گویا ایسا رنگ جو آگ میں جلی ہوئی چیز کے رنگ جیسا ہو۔ اسے سیاہی مائل کہا گیا کیونکہ ضروری نہیں، وہ خالص سیاہ ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5345]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4077
عمامہ (پگڑی) کا بیان۔
حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4077]
فوائد ومسائل:
پگڑی کا استعمال مستحب ہے، زمانہ قدیم سے شرفاء پگڑی باندھتے آئے ہیں حتی کہ روایات میں آتا ہے کہ فرشتوں کو بھی پگڑی باندھتے دیکھا گیا تھا۔
اس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں نیز سیاہ رنگ کے لباس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن ایام محرم میں اور کسی مصیبت کے وقت میں سیاہ رنگ کا لباس پہننے سے احتراز کرنا ضروری ہے، کیونکہ سیاہ رنگ اور سیاہ لباس کو سوگ کے اظہارکی علامت بنا لیا گیا ہے، جیسا کہ بعض لوگ عشرہ محرم میں ایسا کرتے ہیں جب کہ اظہار سوگ کے اس طریقے کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4077]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1104
جمعہ کے خطبہ کا بیان۔
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ کے سر پہ ایک کالا عمامہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1104]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
خطبے کے لئے منبر پرکھڑے ہونا مسنون ہے۔

(2)
سیاہ رنگ کا کپڑا پہننا جائز ہے۔
لیکن ہمارے ملک میں ایک فرقہ ماتم اور شعار کے طور پر سیاہ لباس پہنتا ہے ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے مکمل سیاہ لباس سے اجتناب بہتر ہے۔
خصوصاً محرم کے مہینے میں تاہم صرف سیاہ پگڑی پہننے سے مشابہت نہیں ہوتی۔
اس لئے یہ جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1104]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:576
576- جعفر بن عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ دیکھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:576]
فائدہ:
اس حدیث سے سیاہ لباس کا جواز ثابت ہوتا ہے، بعض لوگوں کا بعض خاص رنگوں کو اپنا شعار بنا لینا درست نہیں ہے، مثلاً کسی کا سبز رنگ کسی کا کالا رنگ کسی کا سرخ رنگ کا خاص کر نا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رنگ میسر آ جا تا تھا، اس کو پہن لیتے تھے، ایسا رنگ پہنا درست نہیں ہے جو عورتوں سے مشابہت رکھتا ہو۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 576]