صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
85. باب فضل المدينة ودعاء النبي صلى الله عليه وسلم فيها بالبركة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1370 ترقیم شاملہ: -- 3328
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِلَى آخِرِهِ، وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ «فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ» . وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ» . وَلَيْسَ فِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ ذِكْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
علی بن مسہر اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح آخر تک ابومعاویہ سے ابوکریب کی روایت کردہ حدیث ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا: ”لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ تعالیٰ کی (تمام) فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ بدلہ۔“ ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کی نسبت اختیار کی“ اور نہ وکیع کی روایت میں قیامت کے دن کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3328]
امام صاحب اعمش ہی کی سند سے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اور اس میں یہ اضافہ ہے، جس نے کسی مسلمان کی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس کے فرض اور نفل قبول نہیں کیے جائیں گے، ان دونوں کی حدیث میں، جس نے اپنے باپ کے غیر کی طرف نسبت کی کا ذکر نہیں ہے، اور حکیم کی روایت میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سليمان بن مهران الأعمش