صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب نكاح المتعة وبيان انه ابيح ثم نسخ ثم ابيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة:
باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1404 ترقیم شاملہ: -- 3412
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَسْتَخْصِي، وَلَمْ يَقُلْ: نَغْزُو.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور کہا: ہم سب نوجوان تھے تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اور انہوں نے نغزو (ہم جہاد کرتے تھے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3412]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، اس میں كُنَّا [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3412]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله | ثقة ثبت | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3412 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3412
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان کے اندر جنسی قوت ایک فطری اورطبعی قوت ہے جس سے انسان اپنی اولاد کے حصول کی خواہش جو طبعی اورفطرتی ہے کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے،
اس لیے یہ ایک طیب اور پاکیزہ خواہش ہے،
خصی ہو کر اپنے آپ کو اس جائز اورحلال چیز سے محروم کرنا درست نہیں ہے۔
اس لیے ایسی دواؤں کا استعمال جائز نہیں ہے جس سے یہ قوت ختم ہو جائے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے:
﴿لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ﴾ کی تلاوت فرما کر خصی ہونے کی حرمت پراستدلال فرمایا ہے،
نہ کہ حلت متعہ پر۔
فوائد ومسائل:
انسان کے اندر جنسی قوت ایک فطری اورطبعی قوت ہے جس سے انسان اپنی اولاد کے حصول کی خواہش جو طبعی اورفطرتی ہے کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے،
اس لیے یہ ایک طیب اور پاکیزہ خواہش ہے،
خصی ہو کر اپنے آپ کو اس جائز اورحلال چیز سے محروم کرنا درست نہیں ہے۔
اس لیے ایسی دواؤں کا استعمال جائز نہیں ہے جس سے یہ قوت ختم ہو جائے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے:
﴿لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ﴾ کی تلاوت فرما کر خصی ہونے کی حرمت پراستدلال فرمایا ہے،
نہ کہ حلت متعہ پر۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3412]
وكيع بن الجراح الرؤاسي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي