🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب الصداق وجواز كونه تعليم قرآن وخاتم حديد وغير ذلك من قليل وكثير واستحباب كونه خمسمائة درهم لمن لا يجحف به:
باب: مہر کا بیان اور تعلیم قرآن اور مہر ٹھہرانے میں لوہے کا چھلا وغیرہ کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1427 ترقیم شاملہ: -- 3496
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا وَهْبٌ ، أَخْبَرَنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: مِنْ ذَهَبٍ.
وہب نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے ایک نے کہا: سونے کی (ایک گٹھلی)۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3496]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ ہے کہ سونے کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے کسی نے کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3496]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1427
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطامثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3496 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3496
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین شادی کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانا ضروری خیال نہیں کرتے تھے،
جس سے معلوم ہوتا ہے وہ اس موقعہ پر اکٹھ نہیں کرتے تھے اپنے ہی خاندان کے چندافراد کے سامنے یہ فریضہ سر انجام دے دیا جاتا تھا،
اگر وہ اس کے لیے زیادہ اہتمام کرتے ہوتے تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے نظر انداز کر سکتے تھے؟ گھر کی برکت کے لیے نکاح کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور تکلیف دیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح پڑھائیں۔

(أولم ولو بشاة)
ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہو۔
بعض نے کم ازکم مقدار پر محمول کیا ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفلس آدمی کو کہا تھا۔
(وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ)
چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو،
بعض نے اس کو کثرت پر محمول کیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3496]

Sahih Muslim Hadith 3496 in Urdu