صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ:
باب: بڑی عمر کی رضاعت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1453 ترقیم شاملہ: -- 3602
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَالِمًا لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَعَنَا فِي بَيْتِنَا، وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ، وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ، قَالَ: " أَرْضِعِيهِ، تَحْرُمِي عَلَيْهِ "، قَالَ: فَمَكَثْتُ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَهِبْتُهُ، ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ، فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُهُ بَعْدُ، قَالَ: فَمَا هُوَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَحَدِّثْهُ عَنِّي أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِيهِ.
ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن ابی ملیکہ نے بتایا، انہیں قاسم بن محمد بن ابی بکر نے خبر دی، انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اللہ کے رسول! سالم۔۔ (انہوں نے) سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں (کہا:)۔۔ ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہتا ہے۔ وہ مردوں کی حد بلوغت کو پہنچ چکا ہے اور وہ (سب کچھ) جاننے لگا ہے جو مرد جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو تو تم اس پر حرام ہو جاؤ گی۔“ (گویا یہ حکم صرف حضرت سہلہ کے لیے تھا۔) (ابن ابی ملیکہ نے) کہا: میں سال بھر یا اس کے قریب ٹھہرا، میں نے یہ حدیث بیان نہ کی، میں اس (کو بیان کرنے) سے ڈرتا رہا، پھر میں قاسم سے ملا تو میں نے انہیں کہا: آپ نے مجھے ایک حدیث سنائی تھی، جو میں نے اس کے بعد کبھی بیان نہیں کی، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ میں نے انہیں بتائی، انہوں نے کہا: اسے میرے حوالے سے بیان کرو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے اس کی خبر دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3602]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سالم، ابو حذیفہ کا حلیف ہمارے ساتھ گھر میں رہتا ہے اور وہ مردوں کی حدِ بلوغ کو پہنچ گیا ہے اور ان باتوں کو جاننے لگا ہے جن کو مرد جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ» ”دودھ پلا کر اس کے لیے حرام ہو جاؤ۔“ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک سال یا اس کے قریب تک خوف اور ہیبت کے مارے میں نے یہ حدیث بیان نہ کی، پھر میری ملاقات قاسم رحمہ اللہ سے ہوئی، تو میں نے ان سے کہا: ”آپ نے مجھے ایک حدیث سنائی تھی جو میں نے ابھی تک کسی کو نہیں سنائی۔“ انہوں نے پوچھا: ”وہ کون سی حدیث ہے؟“ تو میں نے انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ”اسے میرے واسطے سے بیان کرو، بلاشبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث سنائی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3602]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1453
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3600
| أرضعيه قالت وكيف أرضعه وهو رجل كبير فتبسم رسول الله وقال قد علمت أنه رجل كبير |
صحيح مسلم |
3601
| أرضعيه تحرمي عليه ويذهب الذي في نفس أبي حذيفة |
صحيح مسلم |
3602
| أرضعيه تحرمي عليه |
سنن ابن ماجه |
1943
| أرضعيه قالت كيف أرضعه وهو رجل كبير فتبسم رسول الله وقال قد علمت أنه رجل كبير ففعلت فأتت النبي فقالت ما رأيت في وجه أبي حذيفة شيئا أكرهه بعد وكان شهد بدرا |
سنن النسائى الصغرى |
3322
| أرضعيه قالت وكيف أرضعه وهو رجل كبير فقال ألست أعلم أنه رجل كبير ثم جاءت بعد فقالت والذي بعثك بالحق نبيا ما رأيت في وجه أبي حذيفة بعد شيئا أكره |
سنن النسائى الصغرى |
3323
| ترضع سالما مولى أبي حذيفة حتى تذهب غيرة أبي حذيفة فأرضعته وهو رجل قال ربيعة فكانت رخصة لسالم |
سنن النسائى الصغرى |
3324
| أرضعيه تحرمي عليه بذلك |
سنن النسائى الصغرى |
3325
| أرضعيه تحرمي عليه فأرضعته فذهب الذي في نفس أبي حذيفة فرجعت إليه فقلت إني قد أرضعته فذهب الذي في نفس أبي حذيفة |
Sahih Muslim Hadith 3602 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق