صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب جواز وطء المسبية بعد الاستبراء وإن كان لها زوج انفسخ نكاحها بالسبي:
باب: بعد استبرأ کے قیدی عورت سے صحبت کرنا درست ہے اگرچہ اس کا شوہر بھی موجود ہو بمجرد قید ہونے کے نکاح ٹوٹ جانے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1456 ترقیم شاملہ: -- 3609
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ ، حَدَّثَ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً، بِمَعْنَى حَدِيثِ بْنِ زُرَيْعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلَالٌ لَكُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ.
عبدالاعلیٰ نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا۔۔۔ (آگے) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا: سوائے ان (لونڈیوں) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں، وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ اور انہوں نے ”جب ان کی عدت پوری ہو جائے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ (اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3609]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے موقع پر ایک دستہ بھیجا، مذکورہ روایت بیان کی، مگر اس روایت میں یہ ہے، شادی شدہ عورتوں میں سے جو تمہارے ملک (قبضہ) میں آ جائیں، وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ لیکن عدت کے خاتمہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3609]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1456
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
أبو علقمة المصري ← أبو سعيد الخدري