Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب تحريم طلاق الحائض بغير رضاها وانه لو خالف وقع الطلاق ويؤمر برجعتها:
باب: حائضہ کو اس کی رضامندی کے بغیر طلاق دینے کی حرمت اور اگر اس حکم کی ممانعت کی تو طلاق واقع ہونے اور رجوع کا حکم دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1471 ترقیم شاملہ: -- 3663
وحدثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، وَقَالَ: يُطَلِّقُهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا.
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی اور (اپنی) حدیث میں کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) اس سے رجوع کرے حتیٰ کہ اسے حالت طہر میں مجامعت کیے بغیر طلاق دے، اور کہا: وہ اسے عدت کے آغاز میں طلاق دے۔ (یعنی اس طہر کے آغاز میں جس سے عدت شمار ہونی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3663]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے، ایوب کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا، حتی کہ وہ اسے طہر میں قربت کیے بغیر طلاق دے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اسے عدت کے آغاز کے لیے طلاق دے۔ یعنی عدت کے شروع میں طلاق دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3663]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكرثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← أيوب السختياني
ثقة ثبت
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن عبد الصمد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن عبد الصمد العنبري ← عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3663 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3663
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اسی لفظ سے استدلال کیا ہے کہ عدت طہر شمار ہوں گے اور قروء سے مراد طہر ہے حیض نہیں۔
امام سرخسی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ عدتیں دو ہیں مردوں کے اعتبار سے عدت تطلیق کہ شوہر ایسے طہر میں طلاق دے جس میں بیوی کے قریب نہیں گیا اور عدت نساء کہ وہ حیض کے اعتبار سے تین حیض انتظار وتوقف کریں امام طحاوی نے بھی اس کو اختیار کیا ہے۔
صحیح بات یہی ہے کہ قروء سے یہاں مراد حیض ہے۔
اگرچہ یہ لغوی طور پر طہر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3663]