🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب من يخدع في البيع:
باب: جو شخص بیع میں دھوکا کھائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1533 ترقیم شاملہ: -- 3861
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا، فَكَانَ إِذَا بَايَعَ، يَقُولُ: لَا خِيَابَةَ.
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، لیکن ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں: وہ جب سودا کرتا تو کہتا تھا: دھوکا نہیں ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3861]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ سودا کرتے وقت لا خلابة [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3861]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1533
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمنثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن دينار القرشي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3861 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3861
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
لا خلابة:
خديعه:
اور دھوکا نہیں ہونا چاہیے،
مقصد یہ ہے کہ اس سودا میں،
دھوکا نہیں ہونا چاہیے وگرنہ وہ اس کا پابند نہیں ہو گا،
کیونکہ دین خیرخواہی کا نام ہے،
وہ دھوکے کی اجازت نہیں دیتا۔
فوائد ومسائل:
حضرت حبان بن منقذ یا منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کچھ کم عقل تھے اور زبان بھی صاف نہیں تھی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ الفاظ،
لا خلابة بتا دئیے تاکہ دوسرا فریق ان کی خیرخواہی اور ہمدردی ملحوظ رکھتے ہوئے،
ان سے سودا کرے،
لیکن وہ زبان کی لکنت کی وجہ سے خلابۃ یا خدیعہ کا لفظ بولنے کی بجائے کبھی خیابۃ کہہ دیتے کبھی،
خذابۃ یا خیانۃ،
مقصود خلابۃ ہوتا،
اس حدیث کی بناء پر،
ایک ایسا جو ناتجربہ کار یا خرید و فروخت میں اناڑی ہے،
بھاؤ تاؤ نہیں کرتا،
بائع جو مانگے دے دیتا ہے،
اگر بائع اس کو بہت مہنگی چیز دے،
تو کیا اس کو سودا فسخ کرنے کا حق حاصل ہو گا یا نہیں؟ ائمہ کا اختلاف ہے،
حنابلہ اور بعض مالکیہ کے نزدیک اگر ناتجربہ کار کو چیز عام معمول سے زیادہ مہنگے داموں بیچی ہے تو اسے خیار فسخ حاصل ہو گا،
مثلا ایک چیز عام طور ہر دس روپے کی ہے وہ اسے پندرہ میں دیتا ہے،
تو اسے سودا فسخ کرنے کا حق حاصل ہو گا،
لیکن شوافع،
احناف اور اکثر مالکیہ کے نزدیک تجربہ کار،
عقل مند کی طرح نا تجربہ کار اور کم عقل کو بھی سودا مہنگا ہونے کی بنا پر،
فسخ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور یہ حدیث یا تو حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے یا اس کا تعلق خیار شرط کے ساتھ ہے،
خیار شرط کی صورت میں،
اس کو سودا فسخ کرنے کا حق حاصل ہوا،
اور خیار شرط کی وضاحت بیع الخیار کے تحت گزر چکی ہے،
لیکن بقول علامہ سعید،
متاخرین احناف نے اس صورت میں فسخ کا اختیار دیا ہے۔
علامہ تقی عثمانی نے بھی یہی بات لکھی ہے (تکملہ،
ج 4 ص 180)
صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے،
اس کو اقالہ کے تحت اخلاقی طور پر واپس کرنے کا حق ہونا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3861]

Sahih Muslim Hadith 3861 in Urdu