Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب من باع نخلا عليها ثمر:
باب: جو شخص کھجور کا درخت بیچے اور اس پر کھجور لگی ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3907
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3907]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3907]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3907 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3907
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگر آقا مالدار غلام فروخت کرے،
تو اس کا مال،
مالک کا ہو گا۔
شوافع اور احناف کے نزدیک،
وہ مال در حقیقت مالک کا ہی ہے۔
کیونکہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔
اس کی طرف نسبت محض اس بنا پر کر دی گئی ہے کہ وہ اس کے پاس ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
امام مالک کے نزدیک،
اگر آقا،
غلام کو مال دے دے تو وہ اس کا مالک بن جائے گا،
اگر مشتری مال لینے کی شرط لگا لے تو مال بھی مشتری کا ہوگا۔
امام مالک کے نزدیک مشتری کی شرط ہر صورت میں جائز ہے،
مال قیمت کی جنس سے ہو یا غیر جنس سے،
اور وہ مال قیمت سے زائد ہو یا کم،
لیکن امام شافعی کے نزدیک اگر مال درا ہم ہیں تو قیمت دیناروں کی صورت میں ادا کرنا ہو گی اور مال دینار ہیں تو قیمت دراہم کی صورت میں ہو گی۔
اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر قیمت اور مال کی جنس الگ الگ ہے تو ہر صورت میں جائز ہے اور اگر جنس ایک ہے تو قیمت،
اس مال سے زائد ہونی چاہیے۔
اگر قیمت اور مال برابر ہے غلام کے پاس،
پانچ سو درہم ہیں اور قیمت بھی یہی ہے،
یا مال قیمت سے زائد ہے،
مال ہزار درہم ہے اور قیمت آٹھ سو درہم ہے،
تو ان دونوں صورتوں میں جائز نہیں ہے،
اگر قیمت ہزار درہم ہو اور غلام کے پاس پانچ سو یا آٹھ سو درہم ہوں تو پھر جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3907]