صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب في المزارعة والمؤاجرة:
باب: مزارعت اور مؤاجرت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1549 ترقیم شاملہ: -- 3956
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، فَسَأَلْنَاهُ: عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: زَعَمَ ثَابِتٌ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ، وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ "، وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا.
ابوعوانہ نے ہمیں سلیمان شیبانی سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم عبداللہ بن معقل کے پاس گئے، ہم نے ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے) کا حکم دیا ہے اور فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3956]
حضرت عبداللہ بن سائب بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن معقل رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں گئے اور ان سے مزارعت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواب دیا، ثابت کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے روکا ہے، اور ٹھیکے کا حکم دیا ہے اور فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1549
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3956 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3956
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مزارعت سے مراد یہاں بھی سابقہ مخصوص شکل ہی مراد ہے،
جس میں زمیندار کا حصہ پہلے متعین ہو جاتا ہے،
اور اس میں ایک فریق کا نقصان ہو جاتا ہے۔
فوائد ومسائل:
مزارعت سے مراد یہاں بھی سابقہ مخصوص شکل ہی مراد ہے،
جس میں زمیندار کا حصہ پہلے متعین ہو جاتا ہے،
اور اس میں ایک فریق کا نقصان ہو جاتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3956]
عبد الله بن المغفل المزني ← ثابت بن الضحاك الأنصاري