🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب استحباب الوضع من الدين:
باب: قرض میں سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے (اگر قرضدار کو تکلیف ہو)۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1557 ترقیم شاملہ: -- 3983
وحَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: " أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ؟ قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ ".
عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے پاس جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی، ان دونوں کی آوازیں بلند تھیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے کچھ کمی کرنے کی اور کسی چیز میں نرمی کی درخواست کر رہا تھا اور وہ (دوسرا) کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس باہر تشریف لے گئے اور فرمایا: اللہ (کے نام) پر قسم اٹھانے والا کہاں ہے کہ وہ نیکی کا کام نہیں کرے گا؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ہوں، اس شخص کے لیے وہ صورت ہے جو یہ پسند کرے۔ (وہ فوراً اپنے بھائی کا مطالبہ مان گیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3983]
مجھے بہت سے اساتذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث سنائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر جھگڑنے والوں کی آواز سنی جو بلند ہو رہی تھی، ان میں سے ایک دوسرے سے نقصان وضع کرنے کی استدعا کر رہا تھا اور اس سے اصل رقم میں کچھ کمی کا مطالبہ کر رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس کے پاس آئے اور فرمایا: کہاں ہے وہ جو اللہ کی قسم اٹھا رہا تھا کہ میں نیکی اور بھلائی کا کام نہیں کروں گا؟ اس نے کہا: میں ہوں، اے اللہ کے رسول! میں اس کی پسند کا کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1557
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو الرجال، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي، أبو بكر
Newعبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي
صدوق يخطئ
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي
0
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2705
أين المتألي على الله لا يفعل المعروف فقال أنا يا رسول الله وله أي ذلك أحب
صحيح مسلم
3983
أين المتألي على الله لا يفعل المعروف قال أنا يا رسول الله فله أي ذلك أحب
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3983 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3983
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
وضع سے مراد یہ ہے کہ اصل رقم میں کمی کردو،
اور اس کا مطالبہ کرنے میں نرمی،
اور سہولت سے کام لو،
یایہ ہے جو مجھے نقصان ہو گیا ہے،
اس کو چھوڑ دو اور جو باقی بچا ہے،
اس کی قیمت بھی کم کر دو،
جب فریقین کی آواز سن کر حضور تشریف لائے اور فرمایا،
مقروض کا مطالبہ منظور نہ کرنے کی قسم اٹھانا،
نیکی نہ کرنے کی قسم اٹھانا ہے،
جومسلمان کے لیے زیبا نہیں ہے،
تو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھ گئے،
اور عبداللہ بن ابی حدرد کا مطالبہ منظور کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے کہ وہ جو پسند کریں،
میں وہی کرنے کے لیے تیار ہوں،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر آدھا قرضہ معاف کر دیا،
اس حدیث سے معلوم ہوا،
مقروض،
قرض خواہ سے قرض کے کل یا جز کی معافی کی درخواست کر سکتا ہے،
اور اس کو معاف کر دینا پسندیدہ عمل ہے،
اور اس سلسلہ میں سفارش کرنا بھی درست ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3983]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2705
2705. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آوازیں سنیں جو بلند ہورہی تھیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ان میں سے ایک دوسرے سے قرض میں کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ دوسرا کہتاتھا کہ اللہ کی قسم!میں ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اس بات پر اللہ کی قسم اٹھانے والے صاحب کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ میں نیکی کاکام نہیں کروں گا؟ قسم اٹھانے والے نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں موجود ہوں۔ اب میرا بھائی جو چاہتا ہے مجھے وہی پسند ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2705]
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دو میں صلح کا ارشاد فرمایا، اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
حافظ ؒنے کہا، ان لوگوں کے نام معلوم نہیں ہوئے۔
ترجمہ باب اس سے نکلتا ہے کہ آپ نے اس شخص کو پوچھا تھا وہ کہاں ہے جو اچھی بات نہ کرنے کے لیے قسم کھارہا تھا۔
گویا آپ نے اس کے فعل کو برا سمجھا اور صلح کا اشارہ کیا۔
وہ سمجھ گیا اور آپ کے پوچھتے ہی خود بخود کہنے لگا میرا مقروض جو چاہے وہ مجھ کو منظور ہے۔
اس شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام میں فوراً ہی آپ کا اشارہ پاکر مقروض کے قرض میں تخفیف کا اعلان کردیا۔
بڑوں کے احترام میں انسان اپنا کچھ نقصان بھی برداشت کرلے تو بہتر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2705]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2705
2705. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آوازیں سنیں جو بلند ہورہی تھیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ان میں سے ایک دوسرے سے قرض میں کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ دوسرا کہتاتھا کہ اللہ کی قسم!میں ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اس بات پر اللہ کی قسم اٹھانے والے صاحب کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ میں نیکی کاکام نہیں کروں گا؟ قسم اٹھانے والے نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں موجود ہوں۔ اب میرا بھائی جو چاہتا ہے مجھے وہی پسند ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2705]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
وہ کہاں ہے جو اچھی بات نہ کرنے کے لیے قسم اٹھا رہا تھا؟ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کو برا خیال کیا اور اسے صلح کا مشورہ دیا۔
وہ آپ کے اشارے کو سمجھ گیا اور خود بہ خود کہنے لگا:
میرا مقروض جو چاہے مجھے منظور ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ حاکم ایسے فیصلے کا حکم دے سکتا ہے جس میں فریقین کی بھلائی ہو اگرچہ کسی کے حق ادائیگی میں دیر ہو جائے بشرطیکہ اس کا زیادہ نقصان نہ ہو۔
اگر فریق ثانی راضی نہ ہو تو حاکم مقروض کو پورا حق ادا کرنے کا حکم دیا، چنانچہ صاحب واقعہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کرتے ہوئے آپ کا اشارہ پا کر مقروض کے قرض میں کمی کا اعلان کر دیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2705]

Sahih Muslim Hadith 3983 in Urdu