Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب حل اجرة الحجامة:
باب: پچھنے لگانے کی اجرت حلال ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1577 ترقیم شاملہ: -- 4038
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ، فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ، وَقَالَ: إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ أَوْ هُوَ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمْ ".
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پچھنے (سینگی) لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، آپ کو ابوطیبہ نے پچھنے لگائے تو آپ نے اسے غلے سے دو صاع دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے بات کی تو انہوں نے اس کے محصول میں کچھ تخفیف کر دی اور آپ نے فرمایا: تم لوگ جو علاج کرواؤ اس میں سے بہترین سینگی لگوانا ہے یا (فرمایا:) یہ تمہارے بہترین علاجوں میں سے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4038]
حمید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طیبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سینگی لگائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا، اور اس کے مالکوں سے گفتگو کی، انہوں نے اس سے محصول لینے میں کمی کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو، ان میں سے بہترین چیز سینگی لگوانا ہے یا وہ تمہاری بہترین دواؤں میں سے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1577
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← علي بن حجر السعدي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن أيوب المقابري، أبو زكريا
Newيحيى بن أيوب المقابري ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2277
حجم أبو طيبة النبي أمر له بصاع أو صاعين من طعام كلم مواليه فخفف عن غلته أو ضريبته
صحيح البخاري
2280
يحتجم لم يكن يظلم أحدا أجره
صحيح البخاري
2210
صاع من تمر وأمر أهله أن يخففوا عنه من خراجه
صحيح البخاري
2281
دعا النبي غلاما حجاما فحجمه أمر له بصاع أو صاعين أو مد أو مدين كلم فيه فخفف من ضريبته
صحيح البخاري
2102
حجم أبو طيبة رسول الله أمر له بصاع من تمر أمر أهله أن يخففوا من خراجه
صحيح مسلم
4038
احتجم رسول الله حجمه أبو طيبة أمر له بصاعين من طعام كلم أهله فوضعوا عنه من خراجه أفضل ما تداويتم به الحجامة أو هو من أمثل دوائكم
صحيح مسلم
4040
دعا غلاما لنا حجاما فحجمه أمر له بصاع أو مد أو مدين كلم فيه فخفف عن ضريبته
صحيح مسلم
5750
احتجم رسول الله لا يظلم أحدا أجره
جامع الترمذي
1278
احتجم رسول الله وحجمه أبو طيبة أمر له بصاعين من طعام كلم أهله فوضعوا عنه من خراجه
سنن أبي داود
3424
حجم أبو طيبة رسول الله أمر له بصاع من تمر أمر أهله أن يخففوا عنه من خراجه
سنن أبي داود
1837
احتجم وهو محرم على ظهر القدم من وجع كان به
سنن النسائى الصغرى
2852
احتجم وهو محرم على ظهر القدم من وثء كان به
سنن ابن ماجه
2164
احتجم أعطى الحجام أجره
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
429
حجم رسول الله ابو طيبة، فامر له رسول الله بصاع من تمر، وامر اهله ان يخففوا عنه من خراجه
مسندالحميدي
1251
احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم حجمه عبد لحي من الأنصار، يقال لهم بنو بياضة، يسمى أبا طيبة، فأعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا، أو صاعين، أو مدا، أو مدين، وكلم مواليه فخففوا عنه من ضريبته
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4038 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4038
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
خراج:
وہ رقم جو روزانہ مالک غلام سے وصول کرتا ہے،
جس کو خريبه بھی کہتے ہیں۔
(2)
أفضل،
أمثل اور خیر تینوں کا مفہوم یکساں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4038]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 429
پچھنے لگانے کی اُجرت
«. . . ابو طيبة، فامر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بصاع من تمر، وامر اهله ان يخففوا عنه من خراجه . . .»
. . . ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنے لگائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے (مزدوری میں) کھجوروں کا ایک صاع دیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ وہ اس پر خراج (مقرر کردہ رقم) میں کمی کر دیں . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 429]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 2102، 2110، من حديث مالك، ومسلم 1577، من حديث حميد الطّويل به وصرح حميد بالسماع عند مسلم 64/1577]

تفقه:
➊ بیماری کے علاج کے لئے آلات کے ذریعے سے جسم کے کسی حصے سے خون نکالنے کے عمل کو پچھنے لگانا یا سینگی لگانا کہتے ہیں۔
➋ پچھنے لگانے کی اجرت جائز ہے اور جن احادیث میں اسے خبیث کہا گیا ہے یا پچھنے لگانے سے منع کیا گیا ہے وہ کراہیت تنزیہی پر محمول ہیں یا پھر منسوخ ہیں۔
➌ اس سے ہمارے دور میں نائیوں کی مروجہ حجامت مراد نہیں ہے جس میں وہ سر وغیرہ کے بال کاٹتے ہیں۔ اگر مروجہ حجامت میں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کی اجرت بھی جائز اور حلال ہے۔ یاد رہے کہ داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کم کاٹنا حرام ہے لہٰذا ایسی حرکت کرنے والے نائیوں (حجاموں) کی آمدنی حرام ہے۔
➍ اگر اسلامی حکومت ہو تو غلامی جائز ہے۔ میدان جہاد میں قیدی کافروں کو غلام بنا کر بعد میں بیچا جا سکتا ہے۔
➎ اچھے کام میں سفارش کرنا مسنون ہے۔
➏ بیماری کا علاج کرانا مسنون ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 152]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1837
محرم پچھنا لگوائے تو کیسا ہے؟
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1837]
1837. اردو حاشیہ:
➊ سینگی لگوانا اور فصد کھلوانا اس دور کا معروف طریقہ علاج تھا۔ اور مذکورہ بالا احادیث میں دو مختلف واقعات کا بیان آیا ہے۔
➋ اب بھی بوقت ضرورت اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔اورظاہر ہے کہ اس عمل میں بالوں کی جگہ سے بال کاٹے جاتے ہیں۔جلد پر چیرالگایا جاتا ہے۔پس اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔تاہم کئی ایک فقہاء بال کاٹنے کی بنا پر فدیہ کے قائل ہیں۔نیز دانت نکلوانے یا کسی عمل جراحی کی صورت میں کوئی فدیہ لازم نہیں آتا۔
➌ بیماری میں علاج کرانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1837]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2852
محرم کے اوپری پاؤں پر پچھنا لگانے کا بیان۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے اوپری حصہ پر اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2852]
اردو حاشہ:
(1) وَثْئٍ وہ چوٹ یا تکلیف جو گوشت کو پہنچے، ہڈی بچ جائے، یا چوٹ ہڈی پر آئے لیکن ہڈی ٹوٹنے سے محفوظ رہے، ہمارے ہاں اسے موچ سے تعبیر کرتے ہیں۔
(2) مذکورہ روایت بھی راجح قول کے مطابق صحیح ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2852]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1251
1251- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے انصار کے کسی قبیلے کے ایک غلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے تھے اس قبیلے کا نام بنو بیاضہ تھا اور اس شخص کا نام ابوطیبہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع یا دو صاع، ایک مدیا دومد (معاوضے کے طور پر) عطا کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقاؤں سے بات چیت کی، تو انہوں نے اس کے ذمے لازم ادائیگی کو کم کردیا، یعنی اس کے ذمے خراج کو کم کردیا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1251]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سینگی لگانا درست ہے، آج کل اس کے دو طریقے ہیں: ایک گلاس کے ذریعے اور دوسرا مشین کے ذریعے، سینگی لگانے والے کو اجرت دینی چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1249]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4040
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک سینگی لگانے والے غلام کو بلوایا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع یا ایک دو مد (اناج) دینے کا حکم دیا، اور اس کے بارے میں (اس کے مالکوں سے) گفتگو کی، تو اس کے خراج میں تخفیف کر دی گئی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4040]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
غلام کے مالک روزانہ اس سے دو صاع وصول کرتے تھے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو صاع کی بجائے ایک صاع لینے کے لیے کہا،
اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صاع،
دو صاع ہی تصور کیا،
اور آئندہ ایک صاع ہی اس سے وصول کیا،
اس لیے بعض حدیثوں میں ایک صاع دینے کا تذکرہ ہے،
اور بعض میں دو کا،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل ہی سے جمہور فقہاء نے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود،
حجامت (سینگی لگانا)
کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4040]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2102
2102. حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ابو طیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی۔ آپ نے اسے ایک صاع کھجوریں دینے کا حکم دیا۔ نیز اس کے مالکوں کو فرمایا کہ وہ اس کے خراج میں کمی کریں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2102]
حدیث حاشیہ:
یعنی جو روزانہ یا ماہواری اس سے لیا کرتے تھے۔
عرب میں مالک لوگ اپنے غلام کی محنت اور لیاقت کے لحاظ سے اس پر شرح مقرر کر دیا کرتے تھے کہ اتنا روز یا مہینے مہینے ہم کو دیا کرے اس کو خراج کہتے ہیں۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2102]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2280
2280. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نےفرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سینگی لگواتے تھے اور کسی کی مزدوری میں کمی نہیں فرماتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2280]
حدیث حاشیہ:
باب کی احادیث سے حضرت امام بخاری ؒنے یہ ثابت فرمایا کہ حجام یعنی پچھنا لگانے والے کی اجرت حلال ہے اور یہ پیشہ بھی جائز ہے اگریہ پیشہ ناجائز ہوتا تو نہ آپ پچھنا لگواتے نہ اس کو اجرت دیتے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے کاموں کو بنظر حقارت دیکھنے والے غلطی پر ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2280]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2281
2281. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سینگی لگانے والے غلام کو بلایا تو اس نے آپ کو پچھنےلگائے اور آپ نے اس کے لیے ایک صاع یا دوصاع یا ایک یا دو غلہ دینے کا حکم دیا اور اس کے معاملے کے متعلق گفتگوفرمائی تو اس کے مقررہ یومیہ ٹیکس میں کمی کردی گئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2281]
حدیث حاشیہ:
پچھلی حدیث میں پچھنا لگانے والے غلام کی کنیت ابوطیبہ ؓ مذکور ہے۔
ان کا نام نافع بتلایا گیا ہے۔
حافظ ؒنے اسی کو صحیح کہا ہے۔
ابن حذاءنے کہا کہ ابوطیبہ نے 134سال کی عمر پائی تھی۔
حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ غلام یا لونڈی کے اوپر مقررہ ٹیکس میں کمی کرانے کی سفارش کرنا درست ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اب اسلام کی برکت سے غلامی کا یہ بدترین دور تقریباً دنیا سے ختم ہو چکا ہے۔
مگر اب غلامی کے دوسرے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں جو اور بھی بدتر ہیں۔
اب قوموں کو غلام بنایا جاتا ہے جن کے لیے اقلیت اور اکثریت کی اصطلاحات مروج ہو گئی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2281]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2210
2210. حضرت انس بن مالک سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ ابو طیبہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی تو آپ نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا، نیز آپ نے اس کے مالکان سے کہا کہ اس کے محصول سے کچھ کمی کردیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2210]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بہت سے امور پر روشنی پڑتی ہے مثلاً یہ کہ پچھنا لگواناجائز ہے۔
اور وہ حدیث جس میں اس کی ممانعت وارد ہے وہ منسوخ ہے۔
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نوکروں، خادموں، غلاموں سے ان کی طاقت کے موافق خدمت لینی چاہئے۔
اور ان کی مزدوری میں بخل نہ ہونا چاہئے۔
اور یہ بھی کہ اجرت میں نقدی کے علاوہ اجناس بھی دینی درست ہیں بشرطیکہ مزدور پسند کرے۔
خراج سے یہاں وہ ٹیکس مراد ہے جو ا س کے آقا اس سے روزانہ وصول کیا کرتے تھے۔
آپ نے فرمایا کہ اس میں کمی کردیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2210]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2277
2277. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ابو طیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے تو آپ نے اس کے لیے یا دوصاع اناج دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکان سے سفارش کی کہ جو ٹیکس اس پر مقررہے، اس میں کچھ کمی کردیں (تووہ کم کردیا گیا)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2277]
حدیث حاشیہ:
(1)
مالک اپنے زر خرید غلام پر جو ٹیکس مقرر کرتا ہے جسے وہ ہر روز ادا کرتا ہے اسے ضريبة العبد کہا جاتا ہے۔
حدیث میں مذکور ابو طیبہ نے اپنے مالک کی طرف سے عائد کردہ رقم کے زیادہ ہونے کا شکوہ کیا ہوگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کمی کرنے کی سفارش کردی۔
(2)
اس حدیث میں لونڈی کے ٹیکس کی صراحت نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے غلام کے ٹیکس پر اسے قیاس کیا ہے کیونکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، البتہ لونڈیوں کے ذرائع آمدن پر نگرانی کرنے کا حکم ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ پیشۂ زنا سے حاصل کرنے لگیں، اس لیے مالک کو چاہیے کہ لونڈی پر عائد کردہ ٹیکس کا خیال رکھے کہ وہ زنا اور بدکاری سے حاصل کرکے اسے نہ دے رہی ہو۔
اگرچہ غلام کی کمائی بھی چوری وغیرہ سے ہوسکتی ہے لیکن ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 578/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2277]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2280
2280. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نےفرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سینگی لگواتے تھے اور کسی کی مزدوری میں کمی نہیں فرماتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2280]
حدیث حاشیہ:
قبل ازیں ایک روایت گزر چکی ہے کہ ابو جحیفہ ؓ نے ایک سینگی لگانے والا غلام خریدا تو اس کے آلات وغیرہ توڑ ڈالے، بیٹے کے سوال کرنے پر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت سے منع کیا ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2238)
اس روایت کے پیش نظر کچھ لوگوں کو تردد تھا کہ پچھنا لگوانا اور اس پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ امام بخاری ؒ نے ان روایات سے یہ ثابت کیا ہے کہ سینگی لگوانا جائز ہے اور اس پر مزدوری لینا بھی مباح ہے۔
بعض روایات میں سینگی لگانے کی اجرت کو خبیث کہا گیا ہے،اس سے مراد نہی تحریم نہیں بلکہ نہی تنزیہ ہے،یعنی بہتر ہے کہ اس طرح کے کاروبار سے بچاجائے کیونکہ بعض دفعہ خون وغیرہ انسان کے حلق سے نیچے بھی اتر سکتا ہے، اس لیے آپ نے اس کی اجرت کو لفظ"خبیث" سے تعبیر کیا ہے۔
(فتح الباري: 579/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2280]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2281
2281. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سینگی لگانے والے غلام کو بلایا تو اس نے آپ کو پچھنےلگائے اور آپ نے اس کے لیے ایک صاع یا دوصاع یا ایک یا دو غلہ دینے کا حکم دیا اور اس کے معاملے کے متعلق گفتگوفرمائی تو اس کے مقررہ یومیہ ٹیکس میں کمی کردی گئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2281]
حدیث حاشیہ:

سینگی لگانے والے غلام کی کنیت ابو طیبہ اور نام نافع تھا۔
اس روایت میں راوی کو ترددہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کتنا غلہ دیا جبکہ قبل ازیں روایت گزرچکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجور کا ایک صاع عنایت فرمایا تھا۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2102)
جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ انھیں ایک صاع دیں۔
(جامع الترمذي، البیوع، حدیث: 1278، و سنن ابن ماجة، التجارات، حدیث: 2163)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا کہ تیرا یومیہ ٹیکس کس قدر ہے؟ تو اس نے کہا:
دوصاع، پھر آپ کی سفارش سے اس کے مالکان نے ایک صاع معاف کردیا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 267/6)
اس کے مالکان بنو حارثہ قبیلے کے لوگ تھے،ان میں سے حضرت محّیصہ بن مسعود ؓ بھی ہیں۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بنو بیاضہ کے غلام تھے، حالانکہ یہ وہم ہے کیونکہ ان کا غلام ابو ہندتھا۔
(فتح الباري: 581/4)
اس روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کے متعلق سفارش فرمائی تھی۔
(2)
اگر غلام کا محصول اس قدر زیادہ ہوکہ اسے ادا کرنے کی طاقت نہ ہوتو حاکم وقت اس میں تخفیف لازم کرسکتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اب اسلام کی برکت سے غلامی کا دور ختم ہوچکاہے لیکن اب افراد کو غلام بنانے کے بجائے قوموں کو غلام بنایا جاتا ہے جس کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں۔
أعاذناالله منه.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2281]