🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب بيع القلادة فيها خرز وذهب:
باب: سونے اور نگینوں والے ہار کی بیع۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1591 ترقیم شاملہ: -- 4076
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: " اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، فَفَصَّلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ "،
لیث نے ہمیں ابوشجاع سعید بن یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے خالد بن ابی عمران سے، انہوں نے حنش صنعانی سے اور انہوں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، اس میں سونا اور نگینے تھے۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ مل گئے، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: اسے الگ الگ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4076]
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خیبر کے دن ایک ہار بارہ (12) دینار میں خریدا، ہار میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے، میں نے ان کو الگ کیا، تو مجھے اس میں بارہ (12) دینار سے زیادہ مل گئے، تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے الگ کیے بغیر فروخت نہ کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4076]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1591
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فضالة بن عبيد الأنصاري، أبو محمدصحابي
👤←👥حنش الصنعاني، أبو رشدين
Newحنش الصنعاني ← فضالة بن عبيد الأنصاري
ثقة
👤←👥خالد بن أبي عمران التجيبي، أبو عمر
Newخالد بن أبي عمران التجيبي ← حنش الصنعاني
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن يزيد الحميري، أبو شجاع
Newسعيد بن يزيد الحميري ← خالد بن أبي عمران التجيبي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن يزيد الحميري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4076
اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي فقال لا تباع حتى تفصل
جامع الترمذي
1255
اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي فقال لا تباع حتى تفصل
سنن أبي داود
3352
اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي فقال لا تباع حتى تفصل
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4076 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4076
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
اگر کسی چیز کے ساتھ سونے کی آمیزش ہو اور اسے سونے کے عوض بیچنا ہو تو سونے کو الگ کرنا ضروری ہے،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ کیے بغیر فروخت کرنے سے منع کیا ہے،
اس طرح سونا الگ کر کے اس کے ہم وزن سونا لیا جائے گا،
اور باقی چیز کی قیمت الگ لگائی جائے گی،
اس طرح کمی و بیشی کا خطرہ نہیں رہے گا،
کیونکہ اگر الگ نہ کیا جائے،
محض ظن و تخمین سے کام لیا جائے تو کمی و بیشی کا امکان موجود ہے،
امام شافعی،
امام احمد اور امام اسحاق وغیرہ،
محدثین کا یہی نظریہ ہے،
لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک،
اگر الگ سونا،
چیز کے ساتھ ملے ہوئے سونے سے یقینی طور پر زیادہ ہو،
تو پھر جائز ہے،
کیونکہ سونے سے زائد دوسری چیز کی قیمت بن جائے گا،
اگر مفرد (الگ)
سونا،
مرکب (ملے ہوئے)
سونا کے برابر ہو یا کم ہو پھر جائز نہیں ہے،
لیکن سوال یہ ہے،
الگ کیے بغیر،
اس کا تعین کیسے ہو گا،
کہ کم ہے یا برابر ہے،
یا زائد ہے۔
امام مالک کے نزدیک اگر سونا،
بالتبع اور ضمنی طور پر موجود ہے،
اصل دوسری چیز ہے،
تو پھر وہ سامان کے حکم میں ہو گا،
تو پھر اس کو ہم وزن سونے سے بیچنا جائز ہے،
لیکن ظاہر ہے اس موقف کی تو اس حدیث کی موجودگی میں گنجائش نہیں،
اس طرح حماد بن ابی سلیمان کا موقف بالکل بے وزن ہے،
کہ اس کو ہر طرح کم ہو یا مقدار سونا زائد ہو،
بیچنا جائز ہے،
کیونکہ یہ نظریہ حدیث کے بالکل خلاف ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4076]

Sahih Muslim Hadith 4076 in Urdu