Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب آخر آية انزلت آية الكلالة:
باب: بلحاظ نزول آیت کلالہ سب سے آخر میں اترنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1618 ترقیم شاملہ: -- 4156
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ يَسْتَفْتُونَكَ ".
ابوسفر نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: آخری آیت جو اتاری گئی، (یَسْتَفْتُونَکَ) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4156]
حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں، آخر میں نازل ہونے والی آیت ﴿يَسْتَفْتُونَكَ﴾ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4156]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1618
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥سعيد بن أحمد الهمداني، أبو السفر
Newسعيد بن أحمد الهمداني ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥مالك بن مغول البجلي، أبو عبد الله
Newمالك بن مغول البجلي ← سعيد بن أحمد الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← مالك بن مغول البجلي
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان
Newعمرو بن محمد الناقد ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4156 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4156
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آخر میں اترنے والی آیت کے بارے میں،
صحابہ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔
(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری آیت جو اتری ہے،
وہ آیت الربا،
(سود کے بارے میں)
ہے۔
(2)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا دوسرا قول یہ ہے،
آخری آیت ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّـهِ﴾ ہے،
لیکن ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے،
کیونکہ یہ ٹکڑا،
آیت الربا کے آخر میں ہے۔
(3)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،
آخر میں اترنے والی آیت،
﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ﴾ یعنی سورہ توبہ کی آخری آیت۔
(4)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،
آخری آیت،
سورۃ کہف کی آخری آیت،
﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ﴾ ہے۔
(5)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،
آخری آیت،
﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ﴾ ہے،
جو آل عمران کے آخری رکوع میں ہے۔
اس طرح ہر صحابی نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق بات کی ہے،
کسی نے اپنے قول کی نسبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی،
اور یہ بھی ممکن ہے،
ہر ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سب سے آخر میں آیت سنی،
اس کو آخری آیت بنا دیا،
حالانکہ،
اس سے پہلے اتر چکی تھی،
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقصد کے تحت بعد میں کسی وقت اس کی تلاوت فرمائی تھی۔
اس طرح دو سورتوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ آخر میں مکمل نازل ہونے والی سورت ہے،
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما،
سورۃ النصر،
﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ﴾ کو آخرت سورت ٹھہراتے ہیں،
اور حضرت براء،
سورۃ توبہ یعنی سورۃ براءۃ کو،
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک سورۃ المائدہ سب سے آخر میں اتری ہے،
حالانکہ سورۃ براءۃ اور سورۃ المائدہ کا بیک وقت نزول ان سورتوں کے اسلوب اور سیاق و سباق کی رو سے مشکل ہے،
اور سورۃ نصر کا ممکن ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4156]