صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب من ترك مالا فلورثته:
باب: متروکہ مال ورثاء کے لیے ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1619 ترقیم شاملہ: -- 4157
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ، فَيَسْأَلُ: هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلَّا، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ، قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ "،
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی (ایسے) شخص کی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4157]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے مرد کی میت کو لایا جاتا، جس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑا ہے؟“ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جاتا، اس نے قرض کو ادا کرنے کا سامان چھوڑا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے، وگرنہ فرماتے: ”اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھو۔“ اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے، ”میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ حق دار ہوں، تو جو اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذمہ قرض تھا، تو اس کا ادا کرنا میرے ذمہ ہے، اور جس نے مال چھوڑا، تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4157]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4157
| هل ترك لدينه من قضاء فإن حدث أنه ترك وفاء صلى عليه وإلا قال صلوا على صاحبكم أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي وعليه دين فعلي قضاؤه من ترك مالا فهو لورثته |
سنن ابن ماجه |
2415
| هل ترك لدينه من قضاء فإن قالوا نعم صلى عليه وإن قالوا لا قال صلوا على صاحبكم فلما فتح الله على رسوله الفتوح قال أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي وعليه دين فعلي قضاؤه ومن ترك مالا فهو لورثته |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4157 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4157
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قرضہ کا مسئلہ بڑا سنگین ہے،
انسان کو قرض کی ادائیگی میں،
غفلت اور سستی سے کام نہیں لینا چاہیے،
اگر کسی ضرورت یا مجبوری سے قرضہ لینے کی ضرورت پیش آئے،
تو اس کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے،
کیونکہ معلوم نہیں کب موت کا پیغام آ جائے،
اور اگر کوئی اپنے فقر و فاقہ سے اپنا قرضہ ادا نہ کر سکے،
تو حکومت کو اس کا انتظام کرنا چاہیے،
یا کم از کم اس کے لواحقین کو یہ ذمہ داری قبول کرنا چاہیے،
اور مالکیہ و شافعیہ کے نزدیک،
حکومت کا اس کا انتظام،
زکاۃ کی مد سے بھی کر سکتی ہے،
اور احناف و حنابلہ کے نزدیک،
زکاۃ سے اس کی ادائیگی ممکن نہیں ہے،
لیکن بقول علامہ تقی،
حنابلہ اور احناف کا استدلال،
لام تملیک سے ہے،
یعنی ﴿لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ﴾ میں لام،
تملیک کے لیے ہے،
کہ ان کے قبضہ میں دیا جائے،
جبکہ ﴿فِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ﴾،
میں لام ہے،
ہی نہیں ہے۔
اس لیے نماز میں (مقروض)
کے لیے زکاۃ کا مال خرچ کے لیے تملیک کی شرط نہیں ہے۔
اس کا مطلب تو یہ ہے کہ گردنوں کی آزادی اور تاوان میں آئے ہوؤں کو نکالنے میں خرچ کیا جائے،
اس لیے یہاں تملیک کا سوال نہیں ہے،
یہ کہا جائے،
مردہ کی مال تملیک نہیں ہو سکتا،
اس لیے اس کی طرف سے قرضہ زکوٰۃ کی مد سے ادا نہیں کیا جا سکتا۔
نیز جب امام (حکومت)
نے زکاۃ وصول کر لی تو اس کی ملکیت میں آ چکی اب نئی ملکیت کی ضرورت نہیں۔
(تکملہ ج 2،
ص 45)
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قرضہ کا مسئلہ بڑا سنگین ہے،
انسان کو قرض کی ادائیگی میں،
غفلت اور سستی سے کام نہیں لینا چاہیے،
اگر کسی ضرورت یا مجبوری سے قرضہ لینے کی ضرورت پیش آئے،
تو اس کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے،
کیونکہ معلوم نہیں کب موت کا پیغام آ جائے،
اور اگر کوئی اپنے فقر و فاقہ سے اپنا قرضہ ادا نہ کر سکے،
تو حکومت کو اس کا انتظام کرنا چاہیے،
یا کم از کم اس کے لواحقین کو یہ ذمہ داری قبول کرنا چاہیے،
اور مالکیہ و شافعیہ کے نزدیک،
حکومت کا اس کا انتظام،
زکاۃ کی مد سے بھی کر سکتی ہے،
اور احناف و حنابلہ کے نزدیک،
زکاۃ سے اس کی ادائیگی ممکن نہیں ہے،
لیکن بقول علامہ تقی،
حنابلہ اور احناف کا استدلال،
لام تملیک سے ہے،
یعنی ﴿لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ﴾ میں لام،
تملیک کے لیے ہے،
کہ ان کے قبضہ میں دیا جائے،
جبکہ ﴿فِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ﴾،
میں لام ہے،
ہی نہیں ہے۔
اس لیے نماز میں (مقروض)
کے لیے زکاۃ کا مال خرچ کے لیے تملیک کی شرط نہیں ہے۔
اس کا مطلب تو یہ ہے کہ گردنوں کی آزادی اور تاوان میں آئے ہوؤں کو نکالنے میں خرچ کیا جائے،
اس لیے یہاں تملیک کا سوال نہیں ہے،
یہ کہا جائے،
مردہ کی مال تملیک نہیں ہو سکتا،
اس لیے اس کی طرف سے قرضہ زکوٰۃ کی مد سے ادا نہیں کیا جا سکتا۔
نیز جب امام (حکومت)
نے زکاۃ وصول کر لی تو اس کی ملکیت میں آ چکی اب نئی ملکیت کی ضرورت نہیں۔
(تکملہ ج 2،
ص 45)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4157]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2415
جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے“؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2415]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے“؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2415]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقروض شخص کا جنازہ نہ پڑھنا تنبیہ کےلیے تھا۔
(2)
اسلامی حکومت کوایسے مقروض افراد کی مالی امداد کرنی چاہیے جو قرض ادا کرنے کےقابل نہیں۔
(3)
اگر کوئی شخص مقروض فوت ہوجائے، جب کہ اس کے وارث نادار ہوں اورادائیگی کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اسلامی حکومت کا فرض ہےکہ قرض خواہوں کی بیت المال سےادائیگی کرے۔
(4)
ناداروں یتیموں اورکام نہ کرسکنے والے افراد کی کفالت اسلامی حکومت کی ذمے داری ہے۔
(5)
مزید فوائد کےلیے دیکھیے حدیث: 2407۔
فوائد و مسائل:
(1)
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقروض شخص کا جنازہ نہ پڑھنا تنبیہ کےلیے تھا۔
(2)
اسلامی حکومت کوایسے مقروض افراد کی مالی امداد کرنی چاہیے جو قرض ادا کرنے کےقابل نہیں۔
(3)
اگر کوئی شخص مقروض فوت ہوجائے، جب کہ اس کے وارث نادار ہوں اورادائیگی کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اسلامی حکومت کا فرض ہےکہ قرض خواہوں کی بیت المال سےادائیگی کرے۔
(4)
ناداروں یتیموں اورکام نہ کرسکنے والے افراد کی کفالت اسلامی حکومت کی ذمے داری ہے۔
(5)
مزید فوائد کےلیے دیکھیے حدیث: 2407۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2415]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي