صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب وصية الرجل مكتوبة عنده
باب: وصیت کے لکھے ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1627 ترقیم شاملہ: -- 4205
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا، قَالَا: وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ، وَلَمْ يَقُولَا يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ،
عبدہ بن سلیمان اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ ان دونوں نے کہا: ”اس کے پاس (مال) ہو جس میں وصیت کرے (قابل وصیت مال ہو۔)“ اور اس طرح نہیں کہا: ”جس میں وصیت کرنا چاہتا ہو۔“ (مفہوم وہی ہے، الفاظ کا فرق ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4205]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے عبیداللہ کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ روایت، اس فرق سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پاس وصیت کے لائق کوئی چیز موجود ہے“ یہ نہیں کہا، ”وہ اس کے بارے میں وصیت کرنا چاہتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1627
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن نمير الهمداني | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد عبدة بن سليمان الكوفي ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عبدة بن سليمان الكوفي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4205 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4205
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وصیت کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے،
جیسا کہ داؤد ظاہری،
ابن ابی لیلیٰ اور ابن شبرمہ کا نظریہ ہے،
بلکہ کسی چیز کے منافع کے بارے میں بھی وصیت کی جا سکتی ہے،
مثلا کوئی انسان یہ وصیت کرتا ہے کہ میرے اس گھر میں فلاں انسان ایک سال کے لیے مفت رہ سکے گا،
یا میرے باغ کی اس سال کی آمدنی فلاں کو دی جائے گی،
جمہور کے نزدیک وصیت کی تحریر پر گواہ بنانا بھی دوسرے دلائل کی رو سے ضروری ہے،
اور امام احمد کے نزدیک گواہ بنانا ضروری نہیں ہے،
اور وصیت کا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے،
گواہوں کی موجودگی میں زبانی وصیت کرنا بھی بالاتفاق کافی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وصیت کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے،
جیسا کہ داؤد ظاہری،
ابن ابی لیلیٰ اور ابن شبرمہ کا نظریہ ہے،
بلکہ کسی چیز کے منافع کے بارے میں بھی وصیت کی جا سکتی ہے،
مثلا کوئی انسان یہ وصیت کرتا ہے کہ میرے اس گھر میں فلاں انسان ایک سال کے لیے مفت رہ سکے گا،
یا میرے باغ کی اس سال کی آمدنی فلاں کو دی جائے گی،
جمہور کے نزدیک وصیت کی تحریر پر گواہ بنانا بھی دوسرے دلائل کی رو سے ضروری ہے،
اور امام احمد کے نزدیک گواہ بنانا ضروری نہیں ہے،
اور وصیت کا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے،
گواہوں کی موجودگی میں زبانی وصیت کرنا بھی بالاتفاق کافی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4205]
عبد الله بن نمير الهمداني ← عبيد الله بن عمر العدوي