صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب من نذر ان يمشي إلى الكعبة:
باب: بیت اللہ کی طرف پیدل چلنے کی نذر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1643 ترقیم شاملہ: -- 4249
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالعزیز دراوردی نے عمرو بن ابی عمرو سے، اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4249]
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث ایک اور استاد سے عمرو بن ابی عمرو ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1643
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمرو بن أبي عمرو القرشي، أبو عثمان | صدوق يهم | |
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد عبد العزيز بن محمد الدراوردي ← عمرو بن أبي عمرو القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4249 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4249
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حدیث کا بظاہر تقاضا یہی ہے کہ ایک بےبس اور عاجز انسان اگر پیدل چل کر کعبہ پہنچنے کی نذر مانتا ہے،
تو وہ سوار ہو سکتا ہے،
اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کے کفارہ کا حکم نہیں دیا ہے۔
فوائد ومسائل:
حدیث کا بظاہر تقاضا یہی ہے کہ ایک بےبس اور عاجز انسان اگر پیدل چل کر کعبہ پہنچنے کی نذر مانتا ہے،
تو وہ سوار ہو سکتا ہے،
اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کے کفارہ کا حکم نہیں دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4249]
عبد العزيز بن محمد الدراوردي ← عمرو بن أبي عمرو القرشي