🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب صحبة المماليك وكفارة من لطم عبده:
باب: غلام، لونڈی سے کیونکر سلوک کرنا چاہیئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1657 ترقیم شاملہ: -- 4298
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: " أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا، قَالَ: فَأَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا، فَقَالَ: مَا فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ ".
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے ابوعمر زاذان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاں آیا جبکہ انہوں نے ایک غلام کو آزاد کیا تھا۔ کہا: انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز پکڑی اور کہا: اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو اس کے سوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے زد و کوب کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے۔ (اس حکم کو ماننے کا اجر ہو سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4298]
ابو عمر زاذان بیان کرتے ہیں، میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، اور وہ ایک غلام آزاد کر چکے تھے، تو انہوں نے زمین سے ایک تنکا یا کوئی چیز لی اور کہا، اس غلام کی آزادی میں اس کے برابر بھی اجر و ثواب نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا پیٹا، تو اس کا کفارہ اس کو آزاد کرنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1657
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥زاذان الكندي، أبو عبد الله، أبو عمر
Newزاذان الكندي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← زاذان الكندي
ثقة ثبت
👤←👥فراس بن يحيى الهمداني، أبو يحيى
Newفراس بن يحيى الهمداني ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← فراس بن يحيى الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4299
من ضرب غلاما له حدا لم يأته فإن كفارته أن يعتقه
صحيح مسلم
4298
من لطم مملوكه فكفارته أن يعتقه
سنن أبي داود
5168
من لطم مملوكه فكفارته أن يعتقه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4298 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4298
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے،
اور معمولی فروگزاشت پر انہیں مارنا پیٹنا اور دکھ اور اذیت سے دوچار کرنا درست نہیں ہے،
اور اگر کوئی آقا اپنے مملوک پر ظلم و زیادتی کرتا ہے،
تو اس کے لیے پسندیدہ طرز عمل یہی ہے کہ وہ اس کو آزاد کر دے،
تاکہ اس کے ظلم و زیادتی کا ازالہ ہو جائے،
لیکن بالاتفاق آزاد کرنا فرض نہیں ہے،
ایک بہترین طریقہ ہے،
ہاں،
اگر اس نے غلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،
اس کا کوئی عضو کاٹ دیا ہے،
یا جلا دیا ہے،
یا بے کار کر دیا ہے،
تو پھر امام مالک اور امام لیث کے نزدیک آزاد کرنا فرض ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4298]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5168
غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی (معمولی) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5168]
فوائد ومسائل:
اسلام نے انسانی معاشرے میں صدیوں میں رائج غلامی کےنظام کو بڑی دقیق حکمت سے ختم کیا ہے کہ موقع بموقع ہوجانے والی غلطیوں میں غلاموں کے آذاد کرنے کو ان کا کفارہ قرار دیا ہے۔
چنانچہ اہل ایمان نے اس انداز سے غلاموں کو آزاد کرنا اپنا معمول بنا لیا۔
اور انہیں آزاد کیا کہ اب یہ صنف تقریباً ناپید ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5168]