یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب إطعام المملوك مما ياكل وإلباسه مما يلبس ولا يكلفه ما يغلبه:
باب: غلام کو وہی کھلاؤ اور پہناؤ جو خود کھاتے اور پیتے ہو اور ان کو طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دو۔
ترقیم عبدالباقی: 1662 ترقیم شاملہ: -- 4316
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ : أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، عَنْ الْعَجْلَانِ مَوْلَى فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: طعام اور لباس غلام کا حق ہے اور اس پر کام کی اتنی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جو اس کے بس میں نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4316]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کا حق ہے کہ اسے اس کی ضرورت کے مطابق طعام اور لباس ملے، اور اسے ایسے سخت کام کی تکلیف نہ دی جائے، جس کا وہ متحمل نہ ہو سکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1662
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4316 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4316
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں طعام و لباس اس کی ضروریات زندگی کی فراہمی سے کنایہ ہے،
تو اگر غلام جو کسی کا مملوک ہے،
وہ اپنی تمام ضروریات زندگی،
آقا سے لینے کا حقدار ہے،
تو ایک ایسا انسان جو کسی کا مملوک اور غلام نہیں ہے،
محض اجیر و مزدور اور ملازم ہے،
وہ اپنی تمام ضروریات زندگی حاصل کرنے کا حقدار کیوں نہیں ہو گا،
اس لیے یہ ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے،
کہ وہ ہر قسم کے ملازموں اور مزدوروں کو اتنے مشاہیر لے دے اور دلوائے،
جن سے ان کی ضروریات زندگی اس دور کے تقاضوں کے مطابق پوری ہو سکیں،
اور اس کے لیے وہ اخراجات و ضروریات کو پیش نظر رکھے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں طعام و لباس اس کی ضروریات زندگی کی فراہمی سے کنایہ ہے،
تو اگر غلام جو کسی کا مملوک ہے،
وہ اپنی تمام ضروریات زندگی،
آقا سے لینے کا حقدار ہے،
تو ایک ایسا انسان جو کسی کا مملوک اور غلام نہیں ہے،
محض اجیر و مزدور اور ملازم ہے،
وہ اپنی تمام ضروریات زندگی حاصل کرنے کا حقدار کیوں نہیں ہو گا،
اس لیے یہ ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے،
کہ وہ ہر قسم کے ملازموں اور مزدوروں کو اتنے مشاہیر لے دے اور دلوائے،
جن سے ان کی ضروریات زندگی اس دور کے تقاضوں کے مطابق پوری ہو سکیں،
اور اس کے لیے وہ اخراجات و ضروریات کو پیش نظر رکھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4316]
Sahih Muslim Hadith 4316 in Urdu
عجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي