پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب ثواب العبد واجره إذا نصح لسيده واحسن عبادة الله:
باب: غلام کے اجر و ثواب کا بیان اگر وہ اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ تعالیٰ کی اچھے طریقے سے عبادت کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 1666 ترقیم شاملہ: -- 4323
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4323]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے اعمش ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1666
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد | ثقة حافظ | |
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله جرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4323 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4323
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان پر دو ہی قسم کے حقوق ہیں،
حقوق اللہ اور حقوق العباد۔
تو وہ جب ان دونوں کو ادا کرتا ہے،
تو اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے ان نیک اعمال کی بناء پر اس کی لغزشیں اور کوتاہیاں،
معاف ہو جائیں گی،
اور اس کے محاسبہ کی ضرورت نہیں رہے گی،
یا وہ مناقشہ سے بچ جائے گا،
محض پیشی اور عرض اعمال ہو گا اور بس،
اور مومن مُزهد،
کم مال مومن کے قرینہ سے یہ معنی بھی ہو سکتا ہے،
چونکہ غلام،
مال کا مالک نہیں ہوتا،
اس لیے وہ مالی محاسبہ سے محفوظ ہو گا،
دوسرے اعمال کا حساب و کتاب ہو گا،
اور اطاعات و نیکیوں کی کثرت کی بناء پر محاسبہ و مناقشہ کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔
فوائد ومسائل:
انسان پر دو ہی قسم کے حقوق ہیں،
حقوق اللہ اور حقوق العباد۔
تو وہ جب ان دونوں کو ادا کرتا ہے،
تو اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے ان نیک اعمال کی بناء پر اس کی لغزشیں اور کوتاہیاں،
معاف ہو جائیں گی،
اور اس کے محاسبہ کی ضرورت نہیں رہے گی،
یا وہ مناقشہ سے بچ جائے گا،
محض پیشی اور عرض اعمال ہو گا اور بس،
اور مومن مُزهد،
کم مال مومن کے قرینہ سے یہ معنی بھی ہو سکتا ہے،
چونکہ غلام،
مال کا مالک نہیں ہوتا،
اس لیے وہ مالی محاسبہ سے محفوظ ہو گا،
دوسرے اعمال کا حساب و کتاب ہو گا،
اور اطاعات و نیکیوں کی کثرت کی بناء پر محاسبہ و مناقشہ کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4323]
Sahih Muslim Hadith 4323 in Urdu
جرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش